تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 23
درج ذیل ہے :- میں محمد اللہ اول انصار الہ میں سے ہوں۔میں خداتعالی کی قسم کھا کہ بیان کرتا ہوں کہ میران انصار اللہ کے درمیان ہرگز کوئی منصوبیہ اور سازش کسی قسم کی نہ تھی کہ حضرت خلیفہ اول مرحوم و مغفور کی وفات پر حضرت صاجزادہ صاحب کو خلیفہ ثانی بنایا جاوے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ان کے دلوں میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی عزت و عظمت ایسی مضبوطی کے ساتھ جاگتہ یں تھی کہ ان کی نظروں میں حضرت میاں صاحب ہی سب سے زیادہ اہل اور حقدار خلافت کے تھے ، مگیر حاشا و کلا ان کے درمیان کسی قسم کا منصوبہ یا سمجھوتہ ایک بھی اس قسم کا نہ تھا کہ حضرت کو خلیفہ بنانے کے لیے یوں بوں کوشش کی جائے۔۔۔۔۔غرض اس قسم کے اعتراضات ان ہی لوگوں کی طرف سے کئے جاتے تھے جن کے دلوں میں کبھی تھی اور وہ بعد میں منکر خلافت ہوئے یا اس طبقہ کی طرف سے ہوتے تھے جو ان کے زیر اثر تھا۔اس قسم کے معترضین کا حلقہ بڑا ہی محدود تھا ورنہ جماعت کی بھاری اکثریت حضرت صاحبزاد و صاحب کے تقوی وطہارت اور اس تڑپ اورلگن سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں خدمت اسلام کے لیے ودیعت کی تھی بہت متاثر تھی اور ان کے دلوں میں آپ کیلئے عزت و احترام کا ایک زبردست جذبہ پایا جاتا تھا۔خود حضرت خلیفہ مسیح اقل عمر کے تفاوت کے باوجود آپکا بہت احترام کرتے تھے اور آپ کے متعلق اپنے تعلق خاطر اور محبت و پیار کا اظہار وقتاً فوقتاً بر طا فرماتے تاکہ مجھنے والے کبھیں اور فائدہ اٹھائیں۔انجمن انصار اللہ کے قیام کی چونکہ فرض ہی یہ ھی سر تبلیغ اسلام کو دین سے وسیع تر نصار ال ل ت تبلیغی پر وگرام ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا کر کار کیا جائے اس لیے حضرت صاحبزادہ صاحب ان مسائل پر اکثر غور و فکر کرتے رہتے تھے اور وقتاً فوقتاً ایسی تجاویز پیش کرتے تھے جن سے یہ مقصد پورا ہو چنانچہ مین دنوں آپ بھالئے صحت اور عربی زبان کی تحقیق کے لیے مصر تشریف لے جانے والے تھے آپ نے اپنے انصار بھائیوں کے نام ایک خط میں بہ تجویز پیش کی کہ ہر ایک بھائی جس کی آمد پچیس روپیہ ماہوار ہو وہ ایک روپیہ ماہوار دفتر انصار اللہ میں بھیج دیا کرے اور چین کی آمد نیاں اس سے زیادہ ہوں وہ ہر پیش روپے پر ایک روپیہ کے حساب سے چندہ جمع کرا دیا کریں ، سال کے آخر میں ایسے دوستوں کی ایک ایک جماعت مختلف علاقوں میں کم و بیش مدت کے لیے بغرض تبلیغ بھیج دی جایا کرے گی اور ه نے اخبار الم کی سفیر ساده