تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 25
۲۵ پانچویں تجویز کے بارے میں فرمایا کہ کچھ واعظ قلیل تنخواہ پر مقرر کئے جائیں گے ، گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تنخواہ دار علماء نے کیا کرتا ہے لیکن یہ اعتراض غلط ہے، علما ء رزق حرام کھانے کی وجہ سے بد نام ہوئے۔جو لوگ رضاء الہی کے لیے قلیل گزارہ پر قناعت کرینگے وہ ان کی قربانی ہوگی اور یہ گذارہ رزق حلال اور بابرکت ہوگا، البتہ جو واعظ تجارت وغیرہ سے اپنا گزارہ کر سکتے ہوں وہ بلا تنخواہ ہی یہ خدمت سرانجام دیں، لوگوں کی غلط فہمیاں دور کریں۔صدر انجمن کے چند سے وصول کریں اور جہاں انجمنیں قائم نہیں ، وہاں انجمنیں قائم کریں۔لیکن اپنے خرچے کا بوجھ کسی احمدی پر نہ ڈالیں۔ہندوستان میں دیسیع پیمانے پر تبلیغ کا ایک پروگرام نانے کے علاوہ ی تجویز بھی ہوئی کہ بیرونی ممالک مثلاً انگلستان ، امریکہ، آسٹریلیا، چین اور جاپان میں بھی مبلغین بھجوائے جائیں۔پروگرام کا عملی پہلواور نتائج کے پروگرام جاری کیاگیا تو اس پر پورے خو اور نبی کے ساتھ عمل ہوتا رہا، چنانچہ اس کے نتیجہ میں ۲۳ ؍ جولائی سایہ تک شده۔۔قریباً دو تین شده افراد انصهم الله کے ذریعہ سلسلہ عالیہ حمدیہ میں داخل ہوئے، سلسلہ کے اکثر واعظین انجمن انصار الله کے ممبر تھے، اس لحاظ سے کیا جا سکتا ہے کہ تبلیغ احمدیت کا ایک بہت بڑا حصہ انصار کی معرفت پورا ہوتا رہا۔۔بیرونی ممالک میں تبلیغ کے سلسلہ میں چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے کو انصار اللہ کے خرچ پر خواجہ کمال الدین صاحب کی مدد کے لیے انگستان روانہ کیا گیا اور شیخ عبدالرحمن صاحب نو مسلم لاہوری (مولوی فاضل ، اور شاہ ولی اللہ صاحب کو تبلیغ اور تحصیل علوم عربیہ کے لیے منظر روانہ کیا گیا تا کہ وہ واپس اگر مدرسہ احمدیہ کی ترقی کا باعث ہوں۔چوہدری فتح محمد صاحب قیام خلافت ثانیہ تک خواجہ کمال الدین کے ساتھ مل کر دو کنگ مسجد میں کام کرتے رہے اور بعد ازاں خواجہ صاحب سے الگ ہو کر انھوں نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔انجمن انصار اللہ اس شکل میں میں میں کہ اس کا اجرا ہوا تھا زیادہ دیر قائم نہ رہی کیونکہ بقضائے الہی سیدنا حضرت خلیفة المسیح اول م ۱۳ مارچ ۱۹۱۷ء کو اس جہان فانی سے رحلت فرما گئے اور ہم اس مارچ کو مشیت ایزدی سے حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح ثانی منتخب ہوئے۔الفضل ۲۳ جولائی ۱۹۱۳ الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۱۳ 141۔