تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 237 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 237

"۔۔" "۔۔170 کرو اور خدا تعالے سے تعلق پیدا کر ہو تو پھر تمہارے لئے عرش سے نیچے کوئی جگہ نہیں اور جو عرش پر چلا جائے وہ بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔۔پس اگر تم اپنی اصلاح کر لو گے اور خدا تعالے سے دعائیں کرو گے تو تمہارا اللہ تعالے سے تعلق قائم ہو جائے گا اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤر اور خدا تعالے سے تعلق پیدا کر لو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی اور وہ عیسائیت کی خلافت سے بھی لمبی چلے گی۔عیسائیوں کی تعداد تو تمام کوششوں کے بعد مسلمانوں سے قریباً دو گنی ہوئی ہے مگر تمہارے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالے تمہاری تعداد دوسرے تمام مذاہب۔۔۔کے پیروں کی تعداد تمہارے کی کو اتنا بڑھائے گا کہ۔۔۔۔۔۔۔دوسرے تمام مذاہب " مقابلہ میں ویسی ہی بے حقیقت ہو گی جسے آج کل ادنی اقوام کی دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں، وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا یقیناً آئے گا لیکن جب آئے گا تو اس ذریعہ سے آئے گا کہ خلافت کو قائم رکھا جائے، تحریک تجدید کو مضبوط کیا جائے، اشاعت اسلام کے لئے جماعت میں شعف زیادہ ہو اور دنیا کے کسی کونے کو بھی بغیر مبلغ کے نہ چھوڑا جائے۔اگر تم متحد ر ہے تو تم ایک مضبوط سوٹے کی طرح بن جاؤ گے جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکے گی اسی طرح اگر تم نے خلافت کے نظام کو توڑ دیا توتمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور دشمن تمہیں کا جائیگا لیکن اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکے گی۔تم دیکھ لو ہماری جماعت کتنی غریب ہے لیکن خلافت کی وجہ سے اسے بڑی حیثیت حاصل ہے اور اس نے وہ کام کیا ہے جو دنیا کے دوسرے مسلمان نہیں کر سکے میری دعا ہے کہ اللہ تعالے آپ لوگوں کو حقیقی انصار بنائے۔چونکہ تمہاری نسبت اس کے نام سے ہے اس لئے جس طرح وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اسی طرح وہ آپ لوگوں کی تنظیم کو بھی تا قیامت زندہ رکھے گا اور جماعت میں خلافت بھی قائم رہے اور خلافت کی سیاہ بھی قائم رہے لیکن ہماری فوج تلواروں والی نہیں۔ان انصار میں سے تو بعض ایسے ضعیف ہیں کہ ان سے ایک ڈنڈا بھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔لیکن پھر بھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوج میں اور ان کی وجہ سے احمدیت پھیلی ہے اور امید ہے آئندہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ اور زیادہ پھیلے گی۔۔۔۔۔پس تم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں احمدیت کی اشاعت کی کوشش کرو اور انہیں تبلیغ۔۔۔۔۔۔