تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 238
کرو تا کہ اگلے سال ہماری جماعت موریجہ دہ تعداد سے دوگنی ہو جائے اور تحریک تبدید میں حصہ لینے نالے دو گنا چندہ دیں اور پھر اپنی دعاؤں اور نیکی اور تقوی کے ساتھ نو جوانوں پر اثر ڈالو تا کہ وہ میجی دعائیں کرنے لگ جائیں اور صاحب کشوف در ڈیا ہو جائیں۔جس جماعت میں صاحب کشوف در ویا زیادہ ہو جاتے ہیں وہ جماعت مضبوط ہو جاتی ہے کیونکہ انسان کی دلیل سے اتنی تستی نہیں ہوتی متبنی تسلی کشف اور رویا سے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو لیے آخرمیں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نائب صدر مجلس نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بکثرت مطالعہ کردینے اور اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور ر فرما یا کہ انصار کو چاہیے کہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اس ولی لگاڈ اور شغف کو اپنی اولادوں اور نسلوں میں روحانی ورثہ کے طور پر منتقل کرتے پہلے جائیں آپ نے لاحول ولا قوة الا باللہ کی لطیف تفسیر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انسان برائیوں سے بچتے ہوئے نیکیوں میں سبقت لے بہانے کی توفیق پا سکتا ہے۔آمنہ میں آپ نے بنی نویے انسان کے ساتھ سچی ہمدردی اور مخلوق خدا کی بے لوث خدمت بجا لانے کی طرف توجہ دلائی۔صدر مجلس کے اس خطاب کے بعد قریباً پانچ بجے شام پہلا اجلاس ختم ہوا۔اجلاس کے ورزشی اور تفریحی مقابلوں کا پروگرام شروع ہوا اور ٹیموں کے درمیان والی بال کا نیچے کھیلا گیا۔نماز مغرب و عشا اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مشاہدہ معائنہ کا مقابلہ ہوا ، جس میں بارہ انصار نے حصہ لیا۔محمد شفیع خان کراچی اوں اور شیخ عبدالعد احمد ربوہ دوم رہے۔نمازوں کے بعد ساڑھے سات بجے دوسرے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔درسی قرآن کریم کے بعد شورٹی کے ایجنڈے پر غور ہوا۔آخر میں درس حدیث کے ساتھ ساڑھے نو بجے یہ اجلاس ختم ہوا۔دوسرے دن نماز تہجد اجتماعی طور پر پڑھی گئی۔پھر نماز فجر کے بعد مولانا ابوالعطاء صاحب نے ۱۹۵۷ء اخبار الفضل ۲۴ مارچ لالالالالالالالالالالالي ۱۳۳۵