تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 236
۲۳۵ تو یقیناً اسلام اور احمدیت دور دور تک پھیل جائے اور اتنی طاقت پکڑے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابلہ پر مہر نہ سکے۔۔۔"۔۔۔۔را ہمیں عیسائیوں کے صرف عیب ہی نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ ان کی خوبیاں بھی دیکھنی چاہئیں۔یہاں ان میں ہمیں یہ عیب نظر آتا ہے کہ ان میں سے ایک نے تیس روپے لے کر حضرت میں علیہ اسلام کو بیچ دیا وہاں ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے کہ آج تک جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام پر دو ہزار سال کے قریب عرصہ گذر چکا ہے وہ آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ آج جب میں نے اس بات پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس چیز کا وعدہ حواریوں نے کیا تھا چنا نچہ حضرت میتے نے جب کہا من انصاری الی اللہ کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں کون میری مدد کرے گا تو حواریوں نے کہا نحن انصار اللہ ہم خدا تعالیٰ کے راستہ میں آپ کی مدد کریں گے۔انھوں نے اپنے آپ کوہ اللہ تعالے کی طرف منسوب کیا ہے اور اللہ تعالے ہمیشہ رہنے والا ہے پس اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم وہ انصار میں جن کو خدا تعالے کی طرف نسبت دی گئی ہے اس لئے جب تک خدا تعالے زندہ ہے اس وقت تک ہم بھی اس کی مدد کرتے رہیں گے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح کی وفات پر قریباً دو ہزار سال کا عرصہ گذر چکا ہے۔لیکن عیسائی لوگ برابر عیسائیت کی تبلیغ کرتے پہلے بیا رہے ہیں اور اب تک ان میں خلافت قائم مچھلی آتی یاد رکھو تمہارا نام انصاراللہ ہے۔یعنی اللہ کے مددگار۔گور با تمیں اللہ تعالے کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالے ازلی اور ابدی ہے اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہئیے کہ امریت کے مظہر ہو جائے۔تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے رکھتے پہلے جاؤ اور کوشش کر دو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا پہلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں۔ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی سمجھے تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے۔اس لئے میں نے اطفال الا محمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔یہ افعال اور خدام آپ لوگوں ہی کے بچے ہیں۔اگر اطفال الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی تو خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی تو اگلی نسل انصار الله کی اصل ہو گی۔اگر تمہارے اطفال اور خدام ٹھیک ہو جائیں اور پھر تم بھی دعائیں۔۔