تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 235 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 235

- بہت کم رہ گئی ہے۔اب صرف تین چار آدمی ہی ایسے رہ گئے ہیں مین کے متعلق مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ انھوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنی ہیں ممکن ہے اگر زیادہ تلاش کیا جائے تو ان کی تعداد میں چالیس تک پہنچ جائے۔اب ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں اگر ایسے تیس چالیس صحابہ بھی ہوں تب بھی یہ تعداد بہت کم ہے۔اس جماعت میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایسے شخص کی بیعت کی ہو حضرت مسیج موعود علیہ السلام کا متبع تھا اور ان کا نام اسی طرح انصار اللہ رکھا گیا جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق رسول کریم صلی اللہ کا انصاراللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوکان عیسی و موسى حبين لما وسعهما الا اتباعی کہ اگر موسیٰ اور جیسے علیہما السلام میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو وہ میرے متبع ہوتے۔غرض اس وقت جماعت کے انصاراللہ میں دو باتیں پائی جاتی ہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں حضرت پیچ موجود علیہ السلام کے ایک متبع اور شیل کے ذریعہ اسلام کی خدمت کا موقعہ ملا اور وہ آپ لوگ ہیں۔گویا حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال آپ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔جس طرح ان کے حواریوں کوہ انصاراللہ کہا گیا تھا۔اسی طرح مثیل مسیح موعود کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے پھر آپ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے انصار کی بات بھی پائی جاتی ہے۔یعنی جس طرح انصار اللہ میں وہی لوگ شامل تھے مجہ آپ کے صحابہ تھے اسی طرح آپ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ شامل ہیں۔گویا آپ لوگوں میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔آپ میں حضرت مسیح موعود علی الصلوة و السلام کے صحابہ بھی ہیں جنہیں انصار اللہ کہا جاتا ہے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کچھ انصار کہا گیا۔پھر جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنا متبع قرار دیا ہے اور ان کے صحابہ کو انصار اللہ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متبع کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔اللہ تعالے نے قرآن کریم میں انصار کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان کی قربانیاں بھی اللہ تعالے کو بہت پسند تھیں چنا نچہ جب ہم انصار کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ایسی قربانیاں کی ہیں کہ اگر آپ لوگ جو انصار اللہ میں ان کے نقش قدم پر چلیں " "