تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 234
کہ انصار کہا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی انصاراللہ کا دو جگہ فرکمر آتا ہے۔ایک دفعہ جب تر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی پیغامیوں نے مخالفت کی تو میں نے انصار اللہ کی ایک جماعت قائم کی اور دوسری دفعہ جب جماعت کے بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کی تنظیم کی گئی تو چالیس سال سے اگر پر کے مردوں کی جماعت کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔گویا جس طرح قرآن کریم میں دو گروہوں کا نام انصار الله رکھا گیا ہے۔اسی طرح جماعت احمدیہ میں بھی دو زمانوں میں دو جماعتوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔پہلے جن لوگوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ان میں سے اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ تھے کیو نکہ یہ جماعت ۱۱ء میں بنائی گئی تھی اور اس وقت اکثر صحابہ زندہ تھے اور اس جماعت میں بھی اکثر وہ ہی شامل تھے۔اسی طرح قرآن کریم میں بھی جن انصار کا ذکر آتا ہے ان میں زیادہ تر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ شامل تھے۔دوسری دفعہ جماعت احمدیہ میں آپ لوگوں کا نام اسی طرح انصاراللہ رکھا گیا ہے۔جس طرح قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی بنی حضرت مسیح ناصری کے ساتھیوں کو انصار اللہ کہا گیا ہے آپ لوگوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کم ہیں اور زیادہ حصہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے میری بیعت کی ہے۔اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام والی بات بھی پوری ہو گئی۔یعنی میں طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھیوں جس کے سیلا کو انصاراللہ کہا گیا تھا اسی طرح مثیل میسج موجود کے ساتھیوں کو بھی انصار اللہ کہا گیا ہے۔گویا قرآنی تاریخ میں بھی دو زبانوں میں دو گروہوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کبھی دو گروہوں کا نام انصاراللہ رکھا گیا۔خدا تعالے کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اب بھی زندہ ہیں مگر اب ان کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔صحابی اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو نبی کے زمانہ میں اس کے سامنے آگیا ہو۔گویا زیادہ تر یہ لفظ انہی لوگوں پر اطلاق پاتا ہے جنہوں نے نبی کی صحبت سے فائدہ اٹھایا ہو اور اس کی باتیں سنی ہوں۔حضرت مسیح موجود علیہ السلام شالہ میں فوت ہوئے ہیں اس لئے وہ شخص بھی آپ کا صحابی کہلا سکتا ہے جس نے خواہ آپ کی صحبت سے فائدہ نہ اٹھایا ہو لیکن آپ کے زمانہ میں پیدا ہوا ہو اور اس کا باپ اسے اٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے لے گیا ہو۔لیکن یہ ادنی درجہ کا صحابی ہوگا۔اعلیٰ درجہ کا صحابی رہی ہے جس نے آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور آپ کی باتیں سنیں ان کی تعداد اب