تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 206
۲۰۵ ١٩٥٥٠ء ملک کے سیاسی حالات بگڑ گئے اور اجتماعات کا سلسلہ جاری نہ رکھا جا سکا اقیام پاکستان کے بعد اما ماشین میں یہ سلسلہ از سر نو شروع ہوگیا اور اس وقت سے برابر جاری ہے۔ان اجتماعات کی افادیت کے پیش نظر حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے خطبہ تبعد فرمودہ وہ اور اخاء ہی میں اس طرف توجہ دلائی کہ سلسلہ کے تمام مربیوں میعلموں اور انسپکٹروں کا کام ہے گر وہ میں نہیں جگہ ہوں وہاں کی جماعتوں کو ذیلی تنظیموں کی اہمیت سمجھائیں اور انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ دہ ان کے اجتماعات میں اپنے نمائندے بھجوائیں اور جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہونے کی کوشش کریں ، چنانچہ حضور نے فرمایا : سارے مربیوں، معلموں، انسپکٹران بیت المال تحریک جدید و صدر انجمن پردو رکے جو ہیں ان کی یہ ذمہ داری ہو کہ ان علاقوں سے ان جماعتوں کی نمائندگی ضرور بھجوائیں گے : نیز فرمایا : " تمام جماعتوں کے نمائندے ، لجنہ اور ناصرات اور خدام الاحمدیہ اور اطفال اور انصار اللہ کے اجتماعات میں شامل ہوں، لیکن اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔میں انشاء اللہ نگرانی کرونگا کہ ہر جماعت کی نمائندگی ضرور ہو۔۔۔۔۔خواہ ایک ہی آسکے اگر چھوٹی جماعت ہے، لیکن شامل ضرور ہونا چاہیئے۔پھر آپ نے ان اجتماعات میں شامل ہونے والوں کو یہ بشارت دی کہ ایک نئی روح اور نئی زندگی وہ لے کر واپس جائینگے۔مجلس انصاراللہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماعات خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے اندر ایک مرکزی اجتماعات ناس رنگ رکھے ہیں، درس قرآن اشارات الالالالالالالا لیلی وسلم اور ملفوظات امام الزمان کے بیان سے ایسا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے جو قلوب میں پاکیزگی اور ایمان میں جلا پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔جو دوست اس میں شامل ہوتے ہیں وہ نمایاں طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ مرکز میں آنے اور اس اجتماع میں شریک ہونے سے ان کے اندر زندگی کی ایک نئی لہر پیدا ہو جاتی ہے اور انھیں مسکینت ، اطمینان قلب اور ایک ایسی روحانی لذت حاصل ہوتی ہے جو محسوس تو ہوتی ہے لیکن اسے الفاظ میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔جب وہ گھروں کو واپس لوٹتے میں تو جانتے ہیں کہ انھوں نے مرکز میں گر بہت کچھ