تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 205
پندرھواں باب ۲۰۴ اجتماعا ومی زندگی اور ترقی میں اجتماعات کو اہم مقام حاصل ہے۔ان کے ذریعہ اجتماعات کی اہمیت میل جول اور باہمی تعارف میں اضافہ ہوتا ہے اور اخوت و محبت میں ترقی ہوتی ہے۔نیز پیش آمدہ مسائل پر مشورہ اور غوروفکر ہو سکتا ہے اور لائحہ عمل طے کئے جا سکتے ہیں اور یہ بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے کر طے شدہ پروگراموں پر کس حد تک عملدرآمد ہوا۔اسلام اپنے متبعین میں وحدت فکری پیدا کرنا اور ان کی قوت عملیہ کو بیدار رکھنا چاہتا ہے اسی لیے اسلامی عبادات میں ایک قسم کا اجتماعی رنگ رکھا گیا ہے پنجوقتہ نمازوں میں ایک محمد کے افراد ایک جگہ تبع ہوتے ہیں، پھر جمعہ اور عیدین کے موقع پر ایک قصبہ یا شہر اور اس کے قرب و جوار کے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اور بیچ میں تو بین الاقوامی اجتماع کا ایک اہم موقعہ ہوتا ہے فرض اجتماعات تعلیم وتربیت اور اصلاح معاشرہ کا ایک اہم ذریعہ میں اور ان کے نتیجہ میں قومی اور تلی روح نہ صرف پیدا ہوتی بلکہ خوب نشو نما پاتی ہے۔پھر جو اجتماعات مرکز میں ہوں جہاں امام وقت کے کلمات طیبات اور ارشادات براہ راست اور بالمشافہ سننے کا موقعہ ملتا ہے ان کی اہمیت تو ظاہر وباہر ہے۔انہی اغراض کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور میں ہی انصار اللہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ مجلس خدام الاحمدیہ کی طرح اپنے سالانہ اجتماعات منعقد کیا کریں چنانچہ اس ارشاد کی تعمیل میں تقسیم ملک سے قبل دو سالانہ اجتماعات میشی اور سٹی میں منعقد ہوئے جن کا ذکر ابتدائی دور کے حالات میں آچکا ہے۔اس کے بعد ہیں ۱۹۴۵