تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 207
پایا ہے اور انکی جھولیاں لعل و جواہر سے بھر پوپر ہیں۔انتصار اللہ کے اجتماعات کا افتتاح عام طور پر جمعہ کے دن بعد نماز ظہر وعصر ہوتا ہے حضرت امیر مین بشر و صحت و فرصت بنفس نفیس مقام اجتماع میں تشریف لا کر اجتماعی دعا اور اپنے خطاب سے افتتاح فرماتے ہیں اور حسب ضرورت ہدایات دیتے ہیں، اسی طرح حضور آخری اجلاس میں تشریف لاتے اور اختتامی خطاب فرماتے ہیں اور اجتماعی دعا کے بعد باہر سے آنے والوں کو خدا حافظ کہتے اور واپس جانے کی اجازت مرحمت فرماتے ہیں۔21400 1409۔شی سے پیش تک سالانہ اجتماع درون ہوتا رہا، لیکن اجتماع کی افادیت کے پیش نظر اس میش سے اجتماع کا وقت بڑھا کر تین دن کر دیا گیا۔اب اجتماع میں بحیثیت مجموعی آٹھ اجلاس ہوتے ہیں ، دو پہلے دن ، چار دوسرے دن اور دو تیسرے دن۔پہلے دن افتتاحی اجلاس کے بعد تفریحی کھیلوں اور نمانہ اور کھانے کے لیے وقفہ ہوتا ہے اس کے بعد شبیہ اجلاس ۱۰ بجے تک جاری رہتا ہے۔دوسرے اور تیسرے دن کے جلسوں کی کارروائی کا آغازہ نماز تہجد سے ہوتا ہے جو مقام اجتماع میں ہی عمو نا کسی صحابی کی اقتدا میں باجماعت ادا کی جاتی ہے۔حاضری خدا کے فضل سے بہت اچھی ہوتی ہے سوائے ان انصار کے ہر دور کے محلوں میں تقسیم ہوں باقی قریباً سب انصار تہجد کی نماز میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے رب کے حضور نذراد عقیدت پیش کرتے اور اسلام کی ترقی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔رات کی خاموشیوں میں یہ عجز و نیاز بھی اپنے اندر ایک خاص لذت اور تکلف رکھتا ہے جس کو شریک ہونے والے یا ان کا رب کریم ہی جانتا ہے۔دنیا کی اور بستیوں میں یہ چیز کہاں میسر آ سکتی ہے۔نماز فجر کے معا بعد دن کا پہلا اجلاس شروع ہو جاتا ہے سو ساڑھے سات تک جاری رہتا ہے۔پھر ناشتہ کے لیے ایک گھنٹہ کا وقفہ ہوتا ہے اس کے بعد دوسرا اجلاس شروع ہوتا ہے جو ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔کھانے اور نمازوں کے لیے ڈھائی گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے اور اس کے بعد سہ پہر کا اجلاس شروع ہوتا ہے جو عموماً ساڑھے چار بجے تک جاری رہتا ہے۔پھر تفریحی کھیلوں ، نمازوں اور کھانے کے لیے وقفہ ہوتا ہے، اس کے بعد قریباً ساڑھے سات بجے شبینہ اجلاس شروع ہوتا ہے جو حسب ضرورت نو دس بجے تک جاری رہتا ہے۔اس طرح عملاً سارا وقت ہی عبادت اور خدا کے ذکر میں گذرتا ہے۔انصار اللہ کے اس اجتماع کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تعلیمی اور تربیتی رنگ شروع سے آخر تنگ