تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 17 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 17

دوسرا باب انصار اللہ کا پہلاؤ جماعت احمدیہ میں نسیم انصار اللہ کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دفتری امور کی سرانجام دہی اور اندرونی انتظام کو سہولت سے چلانے کے لیے ایک انجین قائم کی جس کا نام صدر انجمن احمد یہ رکھا گیا۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاول اور حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ امسیح الثانی بھی اس انجمن کے ممبر تھے، حضور کی زندگی میں یہ امین حضور کی ہدایات کے مطابق کام کرتی رہی لیکن حضورہ کے وصال کے بعد حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کا انتخاب بطور خلیفہ المسیح عمل میں آیا اور یہ انتخاب ساری جماعت کے متفقہ فیصلہ سے ہوا، کسی ایک فرد نے بھی اس کے خلاف آوازہ نہ اُٹھائی۔سب نے اپنی گردنیں حضرت خلیفہ المسیح کے سامنے بفرض اطاعت جھکا دیں اور آپ کے احکام کی پیروی اسی جوش و خروش سے کرنے گئے ، جس جوش و خروش سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی پیروی کیا کرتے تھے، مگر بد قسمتی سے صدر انجمن کے بعض مہران جو اپنے آپ کو بہت معزز اور اہم سمجھتے تھے اپنے مقام کو نمایاں کرنے کے لیے رفتہ رفتہ حضرت خلیفہ المسیح کے احکامات کو پس پشت ڈالنے اور من مانی کارروائیاں کرنے لگے۔انھوں نے ایسا طرز عمل اختیار کرنا شروع کیا جس سے واضح ہوتا تھا کہ وہ خلافت کے مقام کو گرانا چاہتے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ دراصل اہمیت انجمن کو حاصل ہے نہ کہ خلیفہ اسیج کو۔ان کے طرز عمل سے یہ بھی واضح ہوتا تھا کہ انہیں اپنی عزت و وقار کا تو بہت خیال ہے ، لیکن اس امر کی پروا نہیں کہ جن مقاصد کے لیے خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے وہ پورے ہوتے ہیں یا نہیں۔انی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے فرزند دلبند گرامی ارجمند حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک ٹویا دیکھا کہ ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور ہزاروں پیچھیرے بلد ۲۳ فروری سالانه نیز الحکم ۰۲۱ ۲۸ فروری سلام