تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 18 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 18

۱۸ S بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں اور مکان کو کیوں گرا رہے ہیں ؟ تو جواب ملا کہ یہ جماعت احمدیہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لیے گیا رہے ہیں تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں۔اس وقت آپ کے دل میں خیال گذرا کہ یہ پھیر سے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہیں اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں۔اس رڈیا کے بعد حضرت صاجزادہ صاحب کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ ایک الگ انجمن قائم کی جائے جس کے ممبران خصوصیت سے علم دین حاصل کریں ، اعلاء کلمتہ اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، باہمی اخوت پرزور دیں، ہمہ تن اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کر دیں اور تبلیغ کا جو موقعہ بھی میر آئے اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔چنانچہ آپ نے حضرت خلیفہ اسیح سے اس انجمن کے قیام کی اجازت حاصل کی اور اس کا نام انجمن انصار اللہ دعاؤں اور استخارہ کے بعد تجویز کیا۔من انصاری الی اللہ کی دعوت حضر خلیفہ مسیح سے اجازت مل جانے کے بعد آپ نے اخبار مدہور فروری سلسلہ میں ایک مضمون "من انصاری الی اللہ " کے عنوان سے شائع کیا اور احباب کو اس انجمن میں شمولیت کی دعوت دی لیکن شرط یہ تھی کہ جو صاحب اس کا ممبر بنا چاہیں وہ پہلے سات مرتبہ استخارہ کریں، اگر انشراح صدر ہو تو اس میں شمولیت اختیار کریں۔اس مضمون میں آپ نے استخارہ مسنونہ کے علاوہ مندرجہ ذیل قواعد کا بھی اعلان کیا :- - اس مجلس کے ہر ایک نمبر کا فرض ہو گا کہ حتی الوسع تبلیغ کے کام میں لگا رہے اور جب موقعہ ملے اس کام میں اپنا وقت صرف کرے، جو اپنے گاؤں یا شہروں میں کر سکیں وہاں کریں۔جنہیں زیادہ موقعہ ملے اور علاقہ میں بھی۔ہر ایک نمبر کا فرض ہوگا کہ قرآن شریف اور احادیث کے پڑھنے اور پڑھانے میں کوشاں رہے۔- میرا ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ سلسلہ عالیہ حمدیہ کے افراد کی آپس میں صلح اور اتحاد پیدا کرنے میں کوشاں رہے اور لڑائی جھگڑوں سے بچے خصوصاً جبکہ آپس میں کوئی جھگڑا ہو تو خود فیصلہ کرلیں ورنہ حضرت خلیفہ المسح سے دریافت کرلیں۔ہر ایک قسم کی بدظنیوں سے بچے جو اتفاق واتحاد کو کاٹتی ہیں۔پدر ۲۳ فروری شاه نیز الحکم پر جنوری ۱۹۷ء