تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 110
ماہانہ تبلیغی ٹریکیٹ ۳ ہزار - تربیتی سرکار ۱۲ عدد فی ۵۰۰ کل 4 ہزار 1 کل اضافه خرچ / ۳۳۶۸ اس خرچ کا ذریعہ آمد یہ تجویز ہوا کہ جو انصا کسی مجبوری یا معذوری کے باعث پندرہ روزہ تبلیغ پربن جائیں وہ ایک آدمی مبلغ کا خرچ پندرہ روپیہ ادا کریں جو ان کی طرف سے فرض کفایہ ادا کرے، اندازہ کیا گیا کہ اس ا طرح کافی آمد ہوسکتی ہے۔قادیان میں چند افراد نے اس کے مطابق رقوم بھی ادا کیں، پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس تحریک کو عام کر دیا جائے چنانچہ یکم شہادت را پریل میں سے ایک سال کے لیے یہ تجویز منظور کی گئی۔، یاسمین ۱۳۲۵ اس وقت کے مرکزی ریکارڈ میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ بعد کے سالوں میں صورت حال کیا رہی۔غالباً ملکی حالات خراب ہو جانے کے باعث بجٹ وغیرہ بنانے کی طرف توجہ نہ دی جاسکی مرکزی قائدین اہم ملکی اور جماعتی کاموں میں مصروف رہے اور انو راللہ کی ذیلی تنظیم کا کام خاطر خواہ طریق پر نہ چلایا جا سکا انتقسیم ملک کے بعد ما و فتح ا اء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ایک آنہ ما ہموار کی بجائے چندہ مجلس کی شرح نصف من او سمر پائی فی روپیہ ہوگی اور بیرونی مجالس اپنے چندہ کا یہ حصہ مقامی ضروریات کیلئے رکھ سکتی ہیں۔دور جدید میں مرکزی محلیس کے سالانہ اجتماعات بڑے اہتمام سے ہونے لگے اس چندہ کی نئی شرح سے ا لیے عام ضروریات کے علاوہ اجتماع کے اخراجات کا سوال بھی پیدا ہوا، شورٹی انصاراللہ منعقدہ مشی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سالانہ اجلاس کے اخراجات کے لیے ہر رکن اپنے ماہوار چندہ نصف پائی فی ١٩٥٠ء روپیہ البشر طیکہ دور آنے ماہوار سے کم ہوا کے علاوہ ایک آزماہوار چندہ دے گویا اجتماع کے لیے ۱۲ آنے فی کین سالانہ شرح مقررکی گئی چند سال تک تو اسی شرح سے کام چلتا رہا لیکن جب گرانی بڑھ گئی اور اجتماع کے اخراجات میں سال بہ سال اضافہ ہوتا رہا تو اس شرح میں اضافہ کی ضرورت محسوس ہوئی امیش میں اس 31941 شرح کو بڑھا کر ایک روپیہ فی رکن سالانہ کر دیا گیا۔اسی سال شوری کے بموجب چندہ مجلس بھی نصف پائی نی روپیہ سے بڑھا کر نصف نیا چیر کر دیا گیا۔قریباً دس سال تک مجلس کے چندہ کی شرح نصف نیا پیر نی روپیہ ۱۳۴۵ هشی ۱۳۴۳ هش چندہ کی شرح میں تبدیلی مقدار ہی۔اس دوران دو مر تر بینی یا اور پھر میں برقرار مرتد ۱۳۶۷ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ شرح چندہ مجلس ایک پیسہ نی روپیہ کر دی جائے، لیکن کثرت رائے سے رہ ہوتی رہی ، کین میں کے بعد کمی گرانی غیر مول طور پر بڑھ گی اور تقسیم کے اخراجات میں بہت افسانہ ہو گیا اس لیے ·146°