تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 109
دسواں باب انصار اللہ کا مالی نظام اور بجٹ ابتدائی مالی نظام اور چندہ کی ابتدائی شرح جب انصار اللہ کی تنظیم قائم ہوئی تو مجلس کے اخراجات کے لیے سلام میں میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ : ا بردن انصار الل کم از کم ایک آنہ ماہوار چندہ ادا کرے جو لوگ اس سے زائد ادا کہ میں اسے -1 سکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے۔- ایک ایک آنہ کی رسید دینے کی بجائے چندہ دہندگان کے ناموں کی فہرست مساجد میں آویزاں کی جائے۔-ختر از صدر انجین میں انجمن انصار اللہ کی مد قائم کی جائے جس میں لین دین صدر کے دستخطوں سے ہو۔۔بیرونی مجالس کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ جو چندہ و تابع کریں اس کا ۲۵ فیصد مرکز میں بھیجیں اور باقی مقامی ضروریات پر صرف کریں۔قادیان میں جو مجالس ہیں وہ اپنا سارا چندہ مرکزی فنڈ میں جمع کرائیں اور مقامی ضروریات کے لیے درخواست دیگر رقوم حاصل کریں۔مجلس کا پہلا باقاعدہ بجٹ برائے ۱۳۲۳۲۳ عش جیسا کہ پہلے ذکر ہوا اور فتح دسمبر امیش دارد ۱۹۴۴-۴۵ در ۱۹۴۵ء کو منظور کیا گیا اس وقت سالانہ اخراجات کا اندازہ ۱۵۳۵ روپے تھا، لیکن ۲۳ رامان ایش مارچ کو تفصیل ذیل اضافہ منظور کیا گیا۔انسیکٹر گریڈ ۷۵-۳- لم تنخواہ ۵۴۰۰ - قحط اللونس /۱۴۴- سفر خرچ ۲۱۷۷۰ کل ۱۰۰۰ کرایه مکان - ۱۲۰ متفرق اخراجات سته خاکروب فرنیچر وغیره ۱۲۰۰ عمله : مزید کلرک ایک گریڈ ۵۰-۲-۳۰ تنخواه ۳۶۰ الاؤنس / ۱۰۸ - میزان /۴۶۸ / مددگارہ ایک تنخواہ ۲۰ ماہوار بالمقطع /۲۴۰ مستقل مبلغ - - ۴۵ ماہوار ۵۴۰ برائے انفرادی تبلیغ و تربیت ، سفر خرچ / ۱۸۰ میزان /۷۲۰ 1 IN