تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 111
کام میں وقت پیش آنے لگی، حضرت امیرالمومنین خود بھی محسوس کرتے تھے کہ مجلس انصاراللہ کے چندہ کی شرح ۱۳۵ میریش میں اضافہ ہونا چاہیے چنانچہ حضور نے انصار اللہ کے اجتماع منعقدہ دیش کے موقعہ پر اپنے افتتاحی نخطاب میں فرمایا :- 1961 اس سال خدام الاحمدیہ نے اجتماع میں جو بجٹ پاس کیا ہے وہ ڈھائی لاکھ روپے کا ہے اور جو آپ کے سامنے بجٹ رکھا جائے گا وہ صرف بہتر ہزار روپے کا ہے : بڑا فرق ہوگیا ہے۔بہر حال آپ جب بجٹ پر غور کریں تو ایسی صورت نکالیں کہ ان سے۔یہ پیچھے نہ رہیں۔اسی سال شوری میں مجلس لامپور کی اس تجویز پر جب غور ہوا کہ چندہ مجلس کی شرح نصف پیسہ سے بڑھا کر ایک پیسہ فی روپیہ کر دی جائے تو کثرت رائے اس کے حق میں نہ تھی اس لیے دو پاس نہ ہوسکی، صدر تھیں پیش آمده مشکلات کے باعث شرح کے اضافہ کو ناگزیر سمجھتے تھے۔جب یہ معاملہ حضرت امیر المومنین کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور نے مجوزہ انصافہ کی منظوری صادر فرما دی اور اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ نبوت / نومبر 1961 گوار عیش میں ارشاد فرمایا : زب سے تعلق کی پختگی صرف جوانی کی عمر سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ انصار اللہ کی عمر سے بھی تعلق رکھتی ہے۔۔۔خلیفہ وقت کا کام سمارا دنیا بھی ہے اس لیے میں نے سمارا دیدیا اور میں نے انصار اللہ کے چندہ کی شرح نصف پیہ سے بڑھا کہ چیہ کر دی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے سب کو توفیق دے۔اللہ تعالیٰ بڑے فضل کر رہا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ انصار اللہ والے کیوں مایوس ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہیں کریگا، دھیلہ سے پیسہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کے مال میں بھی برکت دیگا۔۔۔" حضور کے اس ارشاد کے مطابق عملدرآمد شروع ہو گیا اور اب تک اسی شرح سے وصولی ہورہی ہے۔۔مرکز مقامی مجالس اور ضلعوار نظام میں چندوں کی تقسیم او پر یہ ذکر آچکا ہے کہ انصاراللہ کی تنظیم کے قیام کے بعد میں میں یہ قاعدہ مقر کیا گیا تھا کہ ۱۳۲۷ هش ل ما منامہ انصار الله بابت فتح لا مش سر دسمبر 1941