تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 331
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم پھر فرمایا: ۳۱۱ چندوں کی برکت کی جب ہم بات کرتے ہیں تو دراصل یہ چندے اخلاص کا پیمانہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اخلاص میں بہت برکت دی۔جماعت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود مالی قربانیوں میں آگے بڑھتی گئی ہے اور تھک کر پیچھے نہیں ہٹی۔۴ سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مالی نظام جن خطوط پر استوار ہے، اس کا ذکر مندرجہ بالا ارشادات میں بخوبی کر دیا گیا ہے۔مجلس انصار اللہ بھی اسی سے فیض یاب ہوتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور اپنے اموال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔انصار اللہ کا ہر آنے والا سال ترقیات کے نئے سے نئے ابواب کھولتا چلا جاتا ہے اور خلافت احمدیہ کے بابرکت سایہ میں یہ تنظیم مالی فراخی کے ایک دور سے نکل کر اگلے دور میں داخل ہوتی چلی جاتی ہے۔انصار اللہ کے مالی نظام پر نظر ڈالتے ہوئے ہم اس امر کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ مجلس شوریٰ میں پیش کئے جانے والے مجوزہ بجٹ میں ہر سال تدریجی اضافہ ہوتا رہا۔اراکین نے اخلاص و وفا میں بڑھتے ہوئے اور نحن انصار اللہ کی عملی تصویر بنتے ہوئے ان اضافوں کو اپنے اموال کی ادائیگی سے پورا کیا۔نہ صرف پورا کیا بلکہ قربانیوں کے معیار میں سبقت لے جاتے ہوئے مجوزہ بجٹ سے بہت زیادہ رقم پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔آمد و خرچ کے گوشوارے بالصراحت اشارے کرتے ہیں کہ یہ ترقی صرف ایک سال ہی نہیں ہوئی بلکہ ہر سال بفضلہ تعالی مجلس کا قدم بلندی کی طرف ہی جاتا رہا۔زیر نظر دور کے بجٹوں کی ایک سرسری سی جھلک اس حقیقت کی شہادت دیتی ہے کہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے انصار پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضلوں اور برکتوں کی کیسی موسلا دھار بارش نازل فرمائی جس کے نتیجہ میں یہ دور بھی اس کی عنایات سے وافر حصہ پا تا رہا۔۱۹۹۹ء میں مجلس کا بجٹ نواسی لاکھ سولہ ہزار روپے تھا جب کہ ۲۰۰۳ء میں کل بجٹ ایک کروڑ پچیس لاکھ انسٹھ ہزار روپے کا تجویز کیا گیا جس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے انصار اللہ پاکستان کو ایک کروڑ سنتالیس لاکھ اٹھارہ ہزار تین سو پنتالیس روپے کی مالی قربانی پیش کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک بجٹ بنانے سے قبل مکرم قائد صاحب مال جملہ شعبہ جات سے سفارشات طلب کرتے ہیں اور