تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 330
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۳۱۰ مجلس انصار اللہ کا مالی نظام اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿ا﴾ ترجمہ: جو لوگ اپنے مال رات اور دن ، پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔اُن کے لئے اُن کے رب کے پاس اُن کا اجر محفوظ ہے اور نہ تو انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ ہمگین ہوں گے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مالی قربانی کا فلسفہ سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔: وو تم دو چیز سے محبت نہیں کر سکتے اور تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے ﴿۲﴾ پھر اسی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اصیح الرابع " نے ایک مرتبہ فرمایا: دو پس چندہ میں بھی میرا یہ وسیع تجربہ ہے اپنے متعلق بھی اور دوسروں کے متعلق بھی کہ جب بھی آپ خدا کی راہ میں کچھ خرچ کرنے کی توفیق پاتے ہیں تو وہ تو فیق آپ کی توفیق کو بڑھاتی ہے اور اس کے علاوہ ایک اور خدا کا فضل ہے جو ہمیشہ چندہ دینے والوں پر ہوتا ہے کہ اُن کی مالی حیثیت بھی پہلے سے بہتر ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اُن کے قرضوں کے بوجھ کم ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اُن کو روز مرہ کی چٹیاں پڑتی رہتی ہیں اس میں کمی آجاتی ہے۔کئی قسم کی مصیبتوں سے بچائے جاتے ہیں۔