تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 332 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 332

۳۱۲ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم پھر ان کی روشنی میں مرکزی بجٹ آمد و خرچ تیار کرتے ہیں۔حسب روایت یہ بجٹ مرکزی محاسبہ کمیٹی میں پیش ہوتا ہے جس کی سفارشات کے ساتھ مرکزی مجلس عاملہ میں پیش ہوتا ہے۔بحث و تمحیص کے بعد منظور شدہ بجٹ مرکزی مجلس شوری میں پیش کیا جاتا ہے۔مجوزہ بجٹ مرکزی مجلس شوری کی سفارش کے ساتھ حضرت خلیفہ اسے ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بھجوایا جاتا ہے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح کی منظوری ثبت ہونے کے بعد ہی یہ لاگو ہوتا ہے۔اس سے قبل کہ ہر سال کا تفصیلی گوشوارہ آمد وخرچ قارئین کے سامنے رکھا جائے ، بجٹ سے متعلق اہم امور کا سال وار جائزہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔بجٹ کے خصوصی نکات ۲۰۰۰ء سال ۲۰۰۰ ء کا کل بجٹ آمد و خرچ ۱۹۹۹ ء سے تیرہ لاکھ پچانوے ہزار روپے زائد تجویز کیا گیا جو گزشتہ سال کی نسبت سولہ فیصد اضافہ کے ساتھ ایک کروڑ تین لاکھ گیارہ ہزار روپے تھا۔آمد ا۔محاصل خالص : (الف) چنده مجلس: جس کی شرح سالانہ آمد پر ایک فیصد ہے ، گزشتہ سال سے نو لاکھ روپے اضافہ سے بہتر لاکھ تجویز کیا گیا جو سال گزشتہ سے چودہ فیصد زائد تھا۔(ب) چندہ سالانہ اجتماع : ۱۹۹۹ء میں سات لاکھ چھبیس ہزار روپے تھا۔امسال آٹھ لاکھ روپے رکھا گیا۔(ج) چندہ اشاعت لٹریچر : اس کی شرح فی کس سال میں ایک بار کم از کم دس روپے تھی۔سال ۱۹۹۹ء میں دولاکھ بیس ہزار روپے کے مقابل دولاکھ پچاس ہزار تجویز کیا گیا۔۲۔محاصل مشروط گیسٹ ہاؤس : گیسٹ ہاؤس کا بجٹ حسب سابق تین لاکھ روپے ہی رکھا گیا جبکہ ہال کی بالائی منزل کی تعمیر کے لئے نو لاکھ روپے رکھے گئے۔اس تعمیر کی منظوری حضرت خلیفتہ المسیح الرابع " پہلے ہی