تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 145
۱۲۹ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم اجلاس عامله ۲۷ / فروری ۲۰۰۳ء میں سپورٹس ریلی کا مجوزہ بجٹ پیش ہوا۔یہ بجٹ حسب قاعدہ شعبہ جات سے منگوا کر مکرم منتظم صاحب اعلیٰ نے محاسبہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔محاسبہ کمیٹی نے اس پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اپنی سفارشات مرتب کیں۔مجلس عاملہ نے محاسبہ کمیٹی کی سفارشات کو منظور کر لیا۔اسی اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ سپورٹس ریلی کے لئے جو بھی اشیاء خریدی جائیں ، ان کا الگ سٹاک رجسٹر بنایا جائے نیز یہ بھی تجویز ہوا کہ آئندہ شرکاء کے لئے کھانا شعبہ طعام خود پکوانے کا انتظام کرے۔افتتاحی تقریب : مؤرخہ ۷ / مارچ ۲۰۰۲ء بروز جمعرات سوا تین بجے سہ پہر ایوانِ محمود کے ہال میں چوتھی آل پاکستان سالانہ سپورٹس ریلی کی افتتاحی تقریب ہوئی جس کے مہمان خصوصی مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان تھے۔تلاوت، عہد اور نظم کے بعد مکرم قریشی عبدالجلیل صادق صاحب منتظم اعلی سپورٹس ریلی (قائد ذہانت و صحت جسمانی ) نے رپورٹس پیش کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ۱۹۹۹ء میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا اور صرف بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کروایا گیا جس میں تھیں کھلاڑیوں نے شرکت کی۔اگلے سال اس میں ٹیبل ٹینس کا اضافہ کر دیا گیا اور بیالیس کھلاڑی شامل ہوئے۔گزشتہ سال تیرہ اضلاع کے چھیاسی انصار نے شرکت کی۔امسال الحمد للہ اس میں والی بال کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔محض خدا کے فضل سے افتتاح کے وقت تک ڈیڑھ صد سے زائد انصار کھلاڑی اپنی رجسٹریشن کرواچکے ہیں۔رپورٹ کے بعد مکرم صدر مجلس نے افتتاحی خطاب کیا اور فرمایا کہ آل پاکستان ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ کے موقع پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہ روایت تھی کہ آپ افتتاح گذشتہ سال کے چیمپیئن سے کرواتے تھے۔اسی روایت کو زندہ کرتے ہوئے میں گذشتہ سال کے چیمپیئن مکرم ڈاکٹر ملک طارق حبیب صاحب کو بلاتا ہوں کہ وہ آکر ریلی کے افتتاح کا اعلان کریں۔چنانچہ ملک طارق حبیب صاحب سٹیج پر آئے اور افتتاح کا اعلان کیا۔اس کے بعد مکرم صدر مجلس نے دعا کروائی اور پھر حاضرین کی تواضع مشروبات و ماکولات سے کی گئی۔انتظامیہ سپورٹس ریلی: اس ٹورنامنٹ کو کامیاب بنانے کے لئے ایک انتظامیہ تشکیل دی گئی جس نے اپنے نائبین ومعاونین کے ہمراہ احسن رنگ میں خدمات کی توفیق پائی۔انتظامیہ کے اسماء یہ ہیں: نتظم اعلیٰ : مکرم عبد الجلیل صادق صاحب، ایڈیشنل منتظم اعلیٰ : مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب،