تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 967 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 967

۹۶۷ ۲- ہمارا خدا از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کہ میں نے بھی اس موضوع پر سوالات کے جواب دیئے ہیں۔جو کیسٹ (CASSETTES) میں محفوظ ہیں ، ان سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔سوال : تقدیر کے بارہ میں سوال ہوا کہ انسان اچھے یا بُرے میں سے اپنی سہولت اور سمجھ کے مطابق جو چاہتا ہے اختیار کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ نے جو لکھ چھوڑا ہے ، اس کے مطابق ہی اس سے وہ اعمال سرزد ہوتے ہیں۔جواب: فرمایا کہ علم اور تقدیر میں فرق ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے تقدیر لکھ چھوڑی ہے تو وہ اس کے علم کامل کی بناء پر ہے۔لیکن اس سے ذمہ داری خدا کے علم پر نہیں آتی کیونکہ انسان خدا تعالیٰ کے علم کی وجہ سے اعمال نہیں کرتا بلکہ اپنی مرضی سے کرتا ہے اور اس کی مرضی اور اعمال کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔انسان آخر وقت تک اپنے کاموں میں اپنے ارادے کی تبدیلی کی طاقت رکھتا ہے اور وہ ارادہ قائم رکھنے یا بدلنے پر مجبور نہیں۔مگر جو اس نے کرنا ہے وہ خدا کے علم میں ہے۔اس علم کامل کی بناء پر جو کہ خدا تعالیٰ کو حاصل ہے انسان کے اعمال سرزد نہیں ہوتے۔انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کا علم۔علم اور عمل کی اس با ہمی نسبت کے علاوہ بھی تقدیر کی قسمیں ہیں۔مگر تقدیر کی جو بھی نوعیت ہو جزاء سزا کے معاملات میں انسان کو کسی تقدیر کا اس طرح پابند نہیں کیا جاتا کہ پہلے لازماً مجبور کر کے گناہ کروائے جائیں اور پھر سزا دی جائے۔یا مجبور کر کے نیکی کروائی جائے پھر جزاء دی جائے۔مجلس عرفان 4 جولائی ۶ جولائی کو نماز مغرب و عشاء سے قبل حضور انصار میں رونق افروز ہوئے اور سوالات کے جوابات عطاء فرمائے۔جس کا مختصر خلاصہ حسب ذیل ہے۔سوال: حضرت سلمان فارسی کے بارہ میں آتا ہے کہ آپ آنحضرت کی کمر پر ختم نبوت“ کے نشان کو دیکھا ایمان لائے تھے۔اس ختم نبوت کے نشان کی کیا حقیقت ہے؟ جواب: یہ معاملہ تحقیق طلب ہے لیکن ایک چیز بڑی واضح ہے کہ ختم نبوت کوئی مادی چیز نہیں۔میرا خیال ہے کہ بعد میں لوگوں نے اس علامت کے بارہ مشہور کر دیا ہو گا کیونکہ در اصل اس ظاہری نشان کا حقیقت ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں شائد وہ کوئی BIRTHMARK ہو اور اسے ظاہری نشان کے طور پر مشہور کر دیا گیا ہو۔سوال : قرآن کریم میں حضرت موسیٰ کا فرعون اور اس کی فوج سے بحفاظت بیچ کر نکل جانا بیان ہوا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے الہامات میں ہے کہ تجھ پر موسی کے زمانہ کی طرح زمانہ آنے والا ہے۔اس سے کیا مراد لی جاسکتی ہے؟ جواب: اس الہام میں ایک امید کا پہلو ہے کیونکہ اس کے ساتھ ایک اور الہام بھی ہے کہ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سيهدين بڑی واضح بات بتائی گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی