تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 966
۹۶۶ جواب: سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اپنے زمانے میں یہ تقسیم فرمائی تھی۔مگر تعجب کی بات ہے کہ آپ کو اس کا علم اب ہوا ہے۔مرکز نے اس کی اطلاع تو کی ہوگی مگر آپ کو شائد علم نہیں ہوا۔بہر حال یہ کافی عرصہ سے دو حصوں میں انتظامی سہولتوں کی وجہ سے تقسیم کر دی گئی ہے۔سوال : ٹی وی میں چند روز قبل بشپ آف ڈرہم (DURHAM) کا ایک پروگرام تھا جس میں اس نے حضرت عیسی علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کا انکار کیا تھا۔جواب: فرمایا کہ بعض احمد یوں نے اس سے رابطہ بھی کیا تھا مگر اس کے نظریات ہمارے لیے مفید نہیں اور نہ ہمارے نظریات اس کے لیے۔وہ مذہب کے بارہ میں غیر سنجیدہ ہے اور اس کے خیالات دہریت کی طرف مائل ہیں اور صرف RATIOALISM پر مبنی ہیں۔سوال: بشپ آف سٹانگن نے کہا تھا کہ اگر حضرت عیسی کی ہڈیاں اور جسم مل جائیں تو عیسائیت ختم ہو جاتی ہے۔چنانچہ اس کے لئے ہماری جماعت کی طرف سے شائع شدہ کتاب " مسیح کشمیر میں بہت مفید ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس میں حضرت مسیح کا کشمیر میں مدفون ہونا مذکور ہے۔جواب : یہ تو محض اس بشپ کا زبانی جمع خرچ ہے ورنہ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو یہ لوگ کوئی نیا عذر تلاش کر لیتے ہیں۔مثلاً مقدس کفن کے بارہ میں یہ خیال تھا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ وہی چادر ہے جس میں حضرت مسیح کو بعد از صلیب لپیٹا گیا تھا تو عیسائی اپنے عقائد سے تو بہ کر لیں گے۔لیکن جب ناسا (NASA) کے بلند پایہ سائنسی ادارے نے تحقیق کے بعد قطعی ثبوت مہیا کیے تو ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ یہ وہی چادر ہے جس میں حضرت مسیح کو لپیٹا گیا تھا۔ان قطعی ثبوتوں کے باوجود پھر بھی ایک شک کی گنجائش رکھ لی گئی کہ ہوسکتا ہے اسی زمانہ میں اسی وقت کسی اور شخص کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ گزرا ہوجیسا حضرت عیسی کے ساتھ گزرا تھا۔علاوہ ازیں ایک اور عذر جو کفن میسیج پر موجود تصویری شواہد کے اثر سے بچنے کے لیے تراشا گیا ، یہ تھا کہ جب حضرت عیسی“ مرنے کے بعد زندہ ہوئے تو ان کے جسم سے گرمی کی وجہ سے شعائیں اٹھیں جن کی وجہ سے اس چادر پر وہ منفی تصویر آگئی۔پس ایسے عذروں سے وہ اپنے مذہب کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ خود وقت پر کوئی ایسے اسباب فرمائے گا کہ حقیقت آشکار ہو جائے گی۔سوال: ایک بچے نے سوال کیا کہ ایسے لڑکے کو کیسے تبلیغ کروں جو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا مگر مردوں کے بارہ میں اعتقاد رکھتا ہے؟ جواب: پہلے یہ سوچو کہ تم خدا پر کیوں ایمان رکھتے ہو۔جب تم خود اس حقیقت سے آگاہ ہو جاؤ گے تو دوسرے کو بھی بتانے کے قابل ہو جاؤ گے۔جب خود قائل ہو جاؤ گے تو اسی دلیل سے جس سے تم خود قائل ہوئے ہو، دوسرے کو بھی قائل کر سکو گے۔فرمایا کہ سلسلہ کے لٹریچر میں دو کتب اس موضوع پر بہت مفید ہیں : از حضرت فضل عمر مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب ا ہستی باری تعالیٰ -