تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 968 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 968

۹۶۸ راہنمائی شامل حال رہے گی۔واقعات کی مشابہت کے لحاظ سے یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بے شک تاریخ خود کو دہراتی ہے مگر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ تمام تفصیلات میں کلیہ مشابہت ہو۔سوال: السلام علیکم کا جو کشف حضور نے دیکھا تھا، کیا اس میں حضور کو تمام مضرات سے محفوظ رکھنے کا وعدہ تھا ؟ جواب: ایسا واقعہ میرے ساتھ ایک مرتبہ خلافت کے مقام پر فائز ہونے سے قبل بھی پیش آیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی نے جماعت کے خلاف مہم چلائی تھی۔ایک موقعہ اس دوران ایسا بھی آیا کہ جبکہ نہ صرف بعض مشکلات در پیش آنے کا خطرہ تھا بلکہ جماعت کو نقصان کا بھی خطرہ تھا۔میرے سمیت بعض کارکنان سلسلہ کے خلاف مرکزی حکومت کوئی کارروائی کرنا چاہتی تھی۔ان دنوں ایک مرتبہ میں دعا کرتا ہوا لیٹ گیا اور لیٹے ہوئے بھی دعائیں کر رہا تھا کہ میرے دائیں کان میں بڑی صاف آواز میں تین مرتبہ کسی نے السلام علیکم کہا۔یہ آواز اس قدر واقعی اور یقینی تھی کہ اس پیغام میں کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں تھی۔چنانچہ میں نے صبح بڑی تسلی سے اپنے ساتھیوں کو بتادیا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے گا اور ہمیں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔اس مرتبہ بھی جو السلام علیکم کا پیغام خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا۔وہ بھی ایسا یقینی اور واقعی تھا کہ اس سے جماعت کی حفاظت کے بارے میں پوری تسلی ہوگئی۔سوال: روزہ میں خون ٹیسٹ کرانے کے لئے خون کا نمونہ دینا یا اسی طرح ایسا ہونا جس سے تھوڑ اسا خون بہہ جائے۔کیا اس سے روزہ قائم رہتا ہے؟ جواب: اگر خاص اور اہم ضرورت کی وجہ سے یا کسی کی زندگی کو محفوظ کرنے کے لئے خون دینا پڑے تو یہ قابل قدر ہے۔نیز فرمایا کہ اس قسم کے سوالات مفتی سلسلہ سے پوچھنے چاہئیں۔یہی جماعت کا طریق ہے۔مفتی سلسلہ کسی بھی مسئلہ کے بارہ میں پوری تحقیق کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔اگر ان کو کسی مسئلہ میں شک ہو تو اس معاملہ کے مالہ وماعلیہ کو وہ خلیفہ وقت کے سامنے پیش کر کے فیصلہ کرواتے ہیں۔جماعت کا یہ طریق ہے اور اسی کے مطابق چلنا چاہئے۔سوال: یہودی اپنے مذہب اور اعتقادات میں بڑے پابند ہیں۔اگر ہم حضرت عیسی کو چھوڑ کر صرف حضرت اقدس مسیح موعود کی طرف ہی ان کو بلائیں تو ان کا احمدیت کی طرف آنا زیادہ آسان ہے۔جواب کسی پیغمبر کو ہم نظر انداز (BYPASS) نہیں کر سکتے۔کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کے انبیاء بھیجنے کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔اگر وہ حضرت مسیح موعود کو مانیں گے تو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلے ایمان لائیں گے تب ہی حضرت مسیح موعود کو مانیں گے۔اسی طرح یہ ایک سلسلہ ہے۔جس میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہودی تو عملاً آخرت پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔لیکن نئی نسل چونکہ کچھ RATIONAL ہے اس لئے ہمیں ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قرآن کریم میں تو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہود میں بھی اچھے لوگ ہیں۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ہدایت پا جائیں اور خدا کے فضل سے احمدیت کے ذریعہ بعض یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں، اسرائیل میں بھی اور امریکہ میں بھی۔اور بعض تو بہت گرمجوش اور تبلیغ کرنے والے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنے والے ہیں۔پس اگر