تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 886
۸۸۶ ادائیگی کی طرف توجہ دلائی۔حاضری انصار دوسوتھی۔مجموعی حاضری اندا ز پانچ سو تھی۔سالانہ اجتماع ضلع کوٹلی ضلع کوٹلی کا سالانہ اجتماع بمقام چرناڑی ۲۷ اگست ۱۹۹۳ء کو گیارہ بجے قبل دو پہر مکرم بشیر احمد صاحب قمر کی صدارت میں تلاوت اور نظم کے ساتھ شروع ہوا۔آپ نے افتتاحی تقریر میں انصار اللہ کی ذمہ داریوں ، تربیت اولا داور دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دلائی۔مکرم راجہ نصیر احمد صاحب نے اعتراضات کے جوابات دیئے۔مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر خطبہ جمعہ دیا۔نماز جمعہ کے بعد مختصر اجلاس ہوا جس میں تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی گئی۔حاضری تقریباً ایک سو تھی۔سالانہ اجتماع کوئٹہ سالانہ اجتماع کوئٹہ ۲ و ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کو منعقد ہوا۔پہلا اجلاس مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس کی صدارت میں ۲ ستمبر کو ہوا۔آپ نے افتتاحی خطاب میں قیام نماز اور اہمیت اور دیگر تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی۔اس کے بعد آپ نے خطبہ جمعہ دیا جس میں خاص طور پر تحریک جدید کے قیام ، اس کے اغراض و مقاصد اور اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے دنیا بھر میں شاندار تبلیغی نظام کے مستحکم قیام اور احمدیت کے روشن مستقبل اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کو بیان فرمایا۔صدر محترم نے اجتماع کے اختتامی اجلاس میں روزانہ صبح کے وقت تلاوت قرآن کریم کرنے اور ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔سالانہ اجتماع ضلع سانگھڑ گوٹھ عبد الغنی میں ۲ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۳ء کو ضلع سانگھڑ کا سالانہ اجتماع ہوا۔اس اجتماع میں مرکزی نمائندہ مکرم حکیم نذیر احمد صاحب ریحان مربی سلسلہ تھے۔آپ نے ۲ ستمبر کو بعد نماز مغرب و عشاء درس قرآن مجید دیا۔جس میں نماز با جماعت کی ادائیگی دعاء کی اہمیت اور اطاعت نظام کی طرف توجہ دلائی۔اگلے روز بعد نماز فجر درس حدیث میں ہمسایہ کے حقوق ، عبادت الہی اور معاشرے میں پر امن رہنے کے طریق بیان کئے۔علمی مقابلہ جات منعقد کروائے گئے۔خطبہ جمعہ میں مرکزی نمائندہ نے الہی جماعتوں پر ابتلاء اور ان کے ثمرات بیان کئے۔بعد نماز جمعہ اجلاس عام میں انعامات تقسیم کئے گئے۔اختتامی خطاب میں مکرم حکیم صاحب نے قربانیوں کے لئے خود کو اور اپنی نسلوں کو تیار رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔اڑتمہیں میں سے اکیس مجالس کے نمائندگان اجتماع میں شریک ہوئے۔سالانہ اجتماع شیخو پوره ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کو گیارہ بجے قبل دو پہر تلاوت قرآن پاک سے اجتماع کی کاروائی کا آغاز ہوا۔عہد اور نظم کے بعد مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انور نے افتتاحی خطاب کیا اور دعا کرائی۔علمی مقابلہ جات کے