تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 887 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 887

۸۸۷ بعد مکرم رفیق احمد صاحب ثاقب نے مالی قربانی کی اہمیت اور برکات کا ذکر کیا نیز اجلاس عہد یداران میں کام کا جائزہ لیا اور کام کو آگے بڑھانے کے لئے ہدایات دیں۔مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انور نے تقسیم انعامات کے بعد اختتامی خطاب میں دعوت الی اللہ اور تربیت نو مبائعین کی طرف توجہ دلائی۔ستر مجالس کے پانچ سو انصار، پچاس خدام اور تین مہمانوں نے شرکت کی۔لجنات کو شامل کر کے کل حاضری سات سو تھی۔سالانہ اجتماع کراچی ۶ ستمبر ۱۹۹۳ء کو تلاوت، نظم اور عہد کے بعد صدر محترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے افتتاحی خطاب میں حضرت مسیح موعود کی کتب سے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔کتب حضرت مسیح موعود کے مطالعہ اور مرکزی امتحانات میں شمولیت کی طرف توجہ دلائی۔سٹلائیٹ کے پروگرام کی اہمیت بیان کی۔نظام خلافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔مکرم مولانا محمد اعظم صاحب اکسیر نے خلافت علی منہاج نبوت کے تحت خلافتِ احمد یہ کے قیام اور اس کے ذریعہ روحانی انقلاب کا ذکر کیا۔صدر محترم مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے ” خلیفہ خدا بناتا ہے“ کے عنوان کے تحت کئی واقعات بیان کئے اور حضرت خلیفہ اول کے انتخاب کے واقعات، پھر خلافت ثانیہ کے قیام کا ذکر اور اہل پیغام کے طرز عمل پر روشنی ڈالی نیز برکات خلافت کے نتیجہ میں جماعتی ترقیات کے عالمگیر واقعات بیان کئے۔مجلس مذاکرہ: خلافت کے زیر عنوان مذاکرہ منعقد ہوا۔بعد میں سوالات کے جوابات مؤرخ احمدیت مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد نے دیئے۔سالانہ اجتماع ضلع چکوال ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کو سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔سالانہ اجتماع حیدر آباد ۱۰ ستمبر ۱۹۹۳ء کو محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس کی صدارت میں اجتماع شروع ہوا۔آپ نے افتتاحی خطاب میں قیام نماز کی اہمیت اور دیگر تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی۔خطبہ جمعہ میں صدر محترم نے خاص طور پر تحریک جدید کے قیام ، اس کے اغراض و مقاصد اور اس کے نتیجہ میں جماعتی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے دنیا بھر میں شاندار تبلیغی نظام کے مستحکم قیام اور احمدیت کی ترقی اور اس کے روشن مستقبل اور غلبہ اسلام کی غیر معمولی مہم اور خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کو بیان کیا۔اختتامی اجلاس: صدر محترم نے اختتامی خطاب میں تلاوت قرآن کریم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے تلاوت قرآن کریم اور ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔بارہ میں سے نو مجالس اجتماع میں حاضر تھیں۔ایک سو بیس انصار