تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 163
۱۶۳ تحریک جدید : کام کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کس طرح اور کتنے نئے نئے میدان پیدا ہو رہے ہیں۔بے انداز کام کرنے والے ہیں۔جس کے لئے بہر صورت آدمیوں اور رقم کی ضرورت ہے۔وقت نہیں۔صرف ایک ملک سیرالیون میں ہی ہیں ہائی سکول، ایک سو پرائمری سکول اور چار نہایت اعلیٰ ہسپتال کام کر رہے ہیں۔حضور نے نئے سال کا آغاز فرماتے ہوئے تحریک جدید میں دفتر چہارم کا اجراء فر مایا ہے اور اس کی ساری ذمہ واری انصار پر ڈالی ہے۔اپنے کندھوں کو مضبوط کریں۔حکمت اور پیار سے ایسے تمام افراد جماعت بشمول بچگان کے وعدہ جات حاصل کریں۔ہر نسل ایک دفتر کی ذمہ دار ہے۔موجودہ نئی نسل دفتر چہارم کی ذمہ دار ہے۔جو وفات پاچکے ہیں۔اُن کو اُن کے عزیز ان کے ذریعہ دوبارہ قربانیوں کے لحاظ سے زندہ کریں۔تمام انصار کا جائزہ لیں۔کوئی ایک بھی ایسا نہ ہو جو تحریک جدید میں شامل نہ ہو۔امام وقت کے ساتھ تعلق: ہر ناصر اپنے اس تعلق کو مضبوط کرے۔جسمانی دوری ہے۔روحانی دوری نہ ہو۔کثرت سے دُعا کی درخواست کے خطوط حضور کی خدمت میں خود تحریر کریں اور نئی نسل کی اس طرف را ہنمائی کریں۔تربیتی دورہ جھنگ ۲۱ مارچ ۱۹۸۶ ء کو ایک مرکزی وفد نے چاہ لڈیانہ، ٹھٹھہ شیریکا اور ٹھٹھہ سندرانہ کا تربیتی دورہ کیا۔مرکزی وفد میں مکرم مرزا محمد الدین صاحب ناز ، مکرم محمد اسلم شاد صاحب اور مکرم عمر معاذ صاحب (افریقی طالب علم جامعہ احمد یہ ربوہ ) شامل تھے۔مرکزی وفد کے ہمراہ مکرم چوہدری عبد الغفور صاحب ناظم ضلع اور مکرم ولی محمد انور صاحب بھی ان مجالس میں گئے۔چاہ لڈیانہ اور ٹھٹھہ شیر یکا میں علی الترتیب نماز جمعہ اور نماز مغرب وعشاء کے بعد تربیتی اجلاس ہوئے۔ان اجلاسات کی صدارت مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب نے کی۔مکرم عمر معاذ صاحب نے صداقتِ مسیح موعود پر تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ میں حضور کی صداقت کا زندہ ثبوت ہوں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ احمدی ہونے کی توفیق بخشی اور پھر آپ نے ربوہ آنے کا واقعہ سنایا۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مہدی موعود کے ملک میں پیدا کیا ہے۔آپ لوگوں کو ہم جیسوں کے لئے نمونہ بنا چاہیئے۔مکرم محمد اسلم شاد صاحب نے خطبات حضرت خلیفہ اسیح سننے اور ان پر عمل پیرا ہونے اور دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دلائی۔مکرم صاحب صدر نے بھی دعوت الی اللہ کی طرف واقعات کی روشنی میں مؤثر انداز میں ترغیب دلائی۔علاوہ ازیں ہر دو مجالس اور ٹھٹھہ سندرانہ میں احباب جماعت سے انفرادی ملاقاتوں میں ان کے مسائل سننے اور حوصلہ بڑھانے کا موقع ملا۔