تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 162
۱۶۲ دیکھیں کہ حاضری گر رہی یا بڑھ رہی ہے۔اپنی کوششوں کو اس سلسلہ میں منظم اور مربوط کریں۔مستقل مزاجی سے اس کام کی نگرانی کریں۔نمازوں کے اوقات میں مرا کز نماز کے دورے کریں۔گھروں میں جائزہ لیں۔بچوں اور عورتوں کی نمازوں کی کیا حالت ہے؟ ہر گھر سے انفرادی رابطہ کر کے توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ہمارا تو اوڑھنا بچھونا ہی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اس دور ابتلاء میں سب نے دیکھا کہ ہمارا ساتھ دینے والا اس زمین پر کوئی نہیں۔صرف اور صرف حقیقی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اس مالک یاریگانہ کی طرف اپنی ساری توجہ اور اُمیدوں کا رُخ پھیر دیں۔تعلیمی حصہ : آپ انصار کو نماز سادہ / با ترجمہ آتی ہے۔کسی نے آپ پر محنت کی تھی۔آپ بھی اس کا بدلہ اتار دیں اور ویسی ہی محنت اپنے بیوی بچوں پر کریں اور نماز سادہ و ترجمہ ان کو اس طرح سکھا دیں کہ وہ پھر کبھی نہ بھولیں۔انصار اپنی آئندہ نسلوں کو کم از کم اپنے جیسی تربیت اور نور علم تو دے جائیں۔اپنی اولادوں کو احمدیت کے عقائد اور تعلیم سے آگاہ کریں۔نماز کی تلقین کو روزمرہ کا دستور العمل بنا لیں۔گھروں میں اپنی نجی محفلوں میں قبولیت دعا کے نشانات کا تذکرہ اس طرح کریں کہ دل اور وجود دونوں ہی دُعا کی طرف راغب ہو جائیں۔کتب سلسلہ اور کتب سیرت سے اپنی اولا د کو درس دیں تا یہ اولاد بہترین احمدی بن کر زندہ رہے اور دوسروں کو زندگی کا سبق دیتی رہے۔بہر صورت نئی نسل کو مساجد میں لانا آپ کی ذمہ داری ہے۔اصلاح وارشاد: قرآن پاک میں آتا ہے کہ فرعون کہتا ہے کہ یہ چھوٹی سی جماعت ہے اور ہمیں یعنی اکثریت اور طاقت کو غصہ دلاتی ہے۔آج یہ آپ کے مخالف کہتے ہیں۔ان کا شکوہ دور کریں اور اپنی اقلیت کو اصلاح وارشاد کے ذریعہ اکثریت میں بدلیں۔اپنے قول اور فعل سے حضور کا پیغام اور دعوئی اپنے عزیزوں، دوستوں اور ہمسائیوں تک پہنچا ئیں۔حضرت مسیح موعود کی تو ساری زندگی اشتہارات لکھنے اور تبلیغی خطوط لکھنے میں صرف ہوئی اور اس وقت کے افراد نے ایک عظیم جذبہ کے ساتھ حضور کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دیا۔تبلیغ کے محسوس رنگ بھی واضح کریں یعنی آپ کتاب دے سکتے ہیں۔کیسٹس دے سکتے ہیں۔تصاویر دکھا سکتے ہیں۔لوگوں کے قریب اٹھنا بیٹھنا شروع کر سکتے ہیں تا وہ قریب آجائیں۔مجالس سوال و جواب کے انعقاد کا پروگرام بنا ئیں۔چھوٹے چھوٹے پیمانہ پر ہو مگر نمود کا رنگ نہ ہو۔انصار اللہ میں سے جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی ہو کچھ میزبان بنیں کہ مہمان لائیں اور اس طرح غلط فہمیاں دور کرنے والی مجالس سجائیں۔ٹارگٹ مقرر کریں کہ اتنے آدمیوں تک اتنے عرصہ میں بات پہنچانی ہے۔اخلاص سے کام کریں۔یہی اخلاص کوششوں میں کمی کو بھی دور کر دے گا۔