تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 155
ܬܙ تقریر مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۵ء کو عنایت پور بھٹیاں میں کی تھی جس میں جماعت کے خلاف اعتراضات اٹھائے گئے تھے، ان کے جوابات مکرم کا ہلوں صاحب نے دیئے۔اجلاس میں احباب جماعت کے علاوہ متعد د غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی۔غیر از جماعت امام مسجد عنایت پور بھٹیاں بھی شریک ہوئے۔یہ اجلاس تقریباً ایک بجے شب ختم ہوا۔امام مسجد صاحب تو اپنے مخصوص مقصد لئے شریک مجلس ہوئے کیونکہ ۳ جنوری ۱۹۸۶ء کو صبح بعد نماز فجر انہوں نے ان جوابات کے خلاف درس دیا۔لیکن دیگر غیر از جماعت احباب مولوی منظور احمد چینوٹی کے طرز تخاطب سے متنفر ہو کر شریک مجلس ہوئے جس کا انہوں نے برملا اظہار نجی مجالس میں کیا۔تیسرے اجلاس میں جو ڈیرہ مکرم رائے اللہ بخش بھٹی صاحب پر ہوا۔حاضری احمدی احباب پچاس اور غیر از جماعت پچاس تھی۔احباب نے نہایت ہی نظم وضبط اور پر سکون طریقہ سے شرکت کی۔یہ اجلاس تربیتی رنگ میں ہوا۔مورخه ۳ جنوری ۱۹۸۶ء تقریباً بارہ بجے جل بھٹیاں کو وفد پہنچا۔سوال جواب کی مجلس ہوئی تھی اس لئے مکرم رشید احمد زیروی صاحب نے تقریر کی بجائے انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کرنے کا طریقہ اپنایا۔اس میٹنگ میں ملک شمشیر صاحب نگران حلقه (جھنگ) ، مکرم ناصر احمد صاحب (صدر جل بھٹیاں ) ، مکرم امتیاز احمد صاحب، مکرم محمد رفیق صاحب سیکرٹری مال ، مکرم جہان خان صاحب زعیم انصار اللہ شریک ہوئے۔احباب سے تحریک جدید کے وعدہ جات کو بڑھا کر سو فیصد تک لے جانے کی کوشش کرنے کی درخواست کی اور صبر وتحمل ، استقلال اور دعا کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی۔دورہ ٹو بہ ٹیک سنگھ مورخه ۳ جنوری ۱۹۸۶ء بمطابق ۳ صلح ۱۳۶۵ ہش کو مکرم پر و فیسر محمد سلطان اکبر صاحب دس بجے صبح ٹو بہ ٹیک سنگھ پہنچے۔مکرم عزیز احمد طاہر صاحب لیکچرار، سیکرٹری مال جماعت احمدیہ کے مکان پر پہنچ کر اُن سے مختصر طور پر حالات کا جائزہ لیا۔کچھ احباب میں شکر رنجی تھی۔معمولی سی باتوں کو وقار کا مسئلہ بنا کر اختلاف کی صورت اختیار کر لی تھی۔مکرم اکبر صاحب سیکرٹری مال کو ساتھ لے کر بیت احمد یہ گیارہ بجے پہنچ گئے۔سب جماعت کے گھروں میں پیغام پہنچایا کہ سب مرد و زن مسجد میں جمعہ کے لئے ضرور پہنچیں۔مرکزی نمائندہ جمعہ پڑھائیں گے۔چنانچہ سب مرد، خواتین اور اطفال مسجد میں جمعہ کے لئے اکٹھے ہو گئے۔خطبہ جمعہ میں مکرم سلطان اکبر صاحب نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مؤثر رنگ میں اور دردمندی کے ساتھ باہمی صلح و اتحاد کو اختیار کرنے کی تلقین کی۔قرآنی آیات و احادیث ، اسوۂ صحابہ اور حالات حاضرہ کے تقاضہ کی روشنی میں باہمی اخوت و صلح کے لئے توجہ دلائی۔جمعہ سے فراغت کے بعد فریقین کو اکٹھا بٹھا لیا گیا۔قصور وار شخص نے مرکزی نمائندہ کی اپیل پر پہلے کچھ ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔لیکن زور دینے پر آگے بڑھے اور دوسرے صاحب کے ساتھ مصافحہ کر کے بغلگیر ہو گئے۔