تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 431
۴۳۱ واحد ویگا نہ بچے خدا کی پرستار بن جائے اور اُسی کے حضور جھکے۔کائنات کی تخلیق کا نقطہ مرکزی خدائے واحد و یگانہ کی ہستی ہے اور انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ عبودیت محویت عشق اور فنائیت کی متقاضی ہے۔ایک انسان جو خدا کا عبد بن جاتا ہے اس کی کوئی چیز اس کی نہیں رہتی۔وہ خدا کی محبت میں فنا ہو کر اس کا عبد بن کر اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیتا ہے۔پھر جو خدا کا ہو جاتا ہے خدا اُس کا ہو جاتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي عَوْنِ اللَّهِ كَانَ اللَّهُ فِي عَوْنِهِ پس اس موقع پر میں انصار دوستوں سے کہوں گا کہ حقیقی معنی میں خدا کے ہو جائیں اور اپنا سب کچھ اس کی راہ میں فدا کر دیں، دعائیں کرتے ہوئے کہ اے اللہ اس حقیر قربانی کو قبول فرما کہ یہ بھی تیرا احسان ہوگا۔(۸) نائیجیریا لیگوس میں دسمبر ۱۹۷۳ء کو اور ابادان میں اکتوبر ۱۹۷۴ء کو مجالس کا قیام ہوا۔ملکی سطح پر نظامت کے قیام کے بعد الحاج اے بی آئی کوکوئی (A۔B۔L۔KUKOY) ناظم اعلی مقرر ہوئے۔نائب صدارت کے فرائض مکرم مولانا محمد اجمل شاہد صاحب امیر و مشنری انچارج نے انجام دیئے۔سالانہ اجتماعات چھٹا سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ نائیجیریا کا چھٹا سالانہ اجتماع بمقام اونڈو (ONDO) ۲۹و۳۰ ستمبر ۱۹۷۹ء بروز ہفتہ۔اتوار منعقد ہوا۔جس میں دور ونزدیک سے آنے والے تقریبا پانچ صد نمائندگان نے شرکت کی۔مقام اجتماع مسجد احمدیہ کے غربی جانب سوفٹ لمبے اور چالیس فٹ چوڑے حصہ پر شامیانے لگا کر بنایا گیا تھا۔سٹیج کے علاوہ احباب کے بیٹھنے کے لئے کرسیوں کا انتظام تھا۔مقام اجتماع کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور مختلف بینرز سے مزین کیا گیا تھا۔کارروائی کا آغاز : ۲۹ ستمبر بروز جمعہ اجلاس اوّل بوجه بارش بعد نماز ظہر و عصر تین بجے کی بجائے شام چار بجے کے قریب مسجد کے اندر ہی مکرم مولانا محمد اجمل صاحب شاہد امیر ومشنری انچارج و نائب صدر مجلس انصار اللہ نائیجیریا کی زیر صدارت شروع ہوا۔کا رروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم الحاج صلاح الدین احمد صاحب نے کی۔ابن شبیر صاحب نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قصیدہ بر مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اشعار پڑھ کر سنائے۔بعد ازاں عہد انصار اللہ دو بار انگریزی زبان میں اور ایک مرتبہ نائیجیریا کی لوکل زبان