تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 429 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 429

۴۲۹ انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ جماعت کی ذیلی تنظیمیں ہیں۔اگر یہ ذیلی تنظیمیں مضبوط ہوں تو جماعت مضبوط ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان تنظیموں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔نیز آپ نے خوشی کا اظہار کیا کہ انصار اللہ کا پہلا اجتماع ہونے کے باوجود بفضلہ تعالیٰ بہت کامیاب رہا ہے۔ان کے بعد مکرم محمدی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس قسم کے اجتماع تعلیمی اور تربیتی لحاظ سے بہت فائدہ مند ہیں اور ان سے آپس میں رابطہ قائم ہوتا ہے اور باہمی تعلقات اور محبت بڑھتی ہے۔آپ نے کہا کہ اگلے اجتماع کو زیادہ کامیاب کرنے کے لئے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہئیے۔اٹھارہ بکروں کی قربانی انصار اللہ مرکز یہ کےاجتماع کے موقع پر سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث کی اس مبارک تحریک پر کہ ہر جماعت اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کو جذب کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں بطور صدقہ بکروں کی قربانی دے، مندرجہ ذیل مجالس اور افراد کی طرف سے اٹھارہ بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔مجلس انصار اللہ تانگ انگ ، تاسک ملایا ، گوند رونگ ،سما را نگ لینسٹنگ اگونگ ، جیسا لاڈا، اکاٹن سوڈرا، سورابایا ،سکا بومی ، مانسلور، سنگا پر نا مجلس انصار اللہ انڈونیشیا، مکرم پی پی سومنتری صاحب، مکرم ڈاکٹر الیاس صاحب، مکرم کرنل محمد صاحب۔آخر میں یہ تجویز منظور ہوئی کہ آئندہ سال اجتماع انصار اللہ پورے تین دن پر محیط ہو۔مکرم نائب صدر صاحب نے دعا کے ساتھ اجتماع کے اختتام کا اعلان فرمایا۔اجتماع کے بعد مزید تین بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے تا کہ حضور کے ارشاد مبارک کی پوری تعمیل ہو جائے یعنی کل اکیس بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے اور غرباء میں تقسیم کئے گئے۔ے بھارت بھارت میں تمام ذیلی مجالس بشمول مجل انصار اللہ مرکز یہ بھارت براہ راست خلیفہ المسیح کے ماتحت تھیں مجلس انصار اللہ مرکز یہ پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق نہ تھا۔ملکی تقسیم کے بعد ۱۹۵۰ء میں مجلس انصار اللہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ابتداء میں مخدوش ملکی حالات کی وجہ سے مجلس کی سرگرمیاں قادیان تک ہی محدودر ہیں۔۱۹۷۳ ء سے مکرم قریشی عطاء الرحمن صاحب انصار اللہ کے صدر منتخب ہوئے۔حالات بہتر ہونے کے نتیجہ میں اُن کے دور صدارت میں باسٹھ مجالس کا قیام عمل میں آیا۔۱۹۷۷ء میں مکرم قریشی عطاء الرحمن صاحب کی وفات کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ