تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 424
۴۲۴ قدرت ثانیہ کی برکات پر اور مکرم ڈاکٹر سعید احمد خان صاحب نے ”جہاد فی سبیل اللہ پر تقاریر کیں۔اجلاس دوم حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی زیر صدارت شروع ہوا۔حضرت چوہدری صاحب نے حاضرین کو عباد الرحمن کی خصوصیات کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے وہ ہوتے ہیں جو ذکر الہی کی طرف خصوصی دھیان دیتے ہیں۔اور وَالَّذِيْنَ يَتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا کے مطابق راتوں کو ذکر الہی کرنے کے لئے اٹھتے ہیں۔شب بیدار ہوتے ہیں۔آپ نے اس سلسلہ میں متعدد آیات قرآنی کی تلاوت فرما کر حاضرین کو نماز تہجد کی ادائیگی کی پر زور تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کو حاصل کرنے کے گر بتائے۔سب سے بڑا گر فرض نمازوں کے علاوہ نماز تہجد کا ادا کرنا بتایا۔پھر آپ نے دعاؤں پر زور دیا اور احباب کو تلقین کی کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں ذکر الہی کرتے رہا کریں اور ایسے کام میں بھی جس میں ہاتھ سے کام کرنا ہو اور ذہنی قسم کا نہ ہو ، ساتھ ساتھ دعاؤں کا ورد کرتے رہنا بہت بڑی نیکی ہے۔آپ نے فارسی کی ضرب المثل دست با کار دل با یار سنا کر واضح کیا کہ ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔بلکہ ذکر الہی تو اتر کے ساتھ کرنا اور دعائیں کرنا اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا خاصہ ہے۔نماز ظہر وعصر نیز کھانے کے وقفہ کے بعد اجلاس سوم تقریباً تین بجے زیر صدارت مکرم شیخ مبارک احمد صاحب شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب نے کی۔اس کے بعد مکرم چوہدری محمد یعقوب صاحب نے حضرت اقدس کی ایک نظم خوش الحانی سے پڑھی۔مکرم چوہدری رشید احمد صاحب نے تربیت اولاد کے بارہ میں والدین کی ذمہ داریاں“ کے موضوع پر تقریر کی۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم اور جماعت کی ترقی کے لئے اتحاد فکر ، اتحاد خیال اور اتحاد عمل کا ہونا بہت ضروری ہے۔انبیاء بھی دنیا میں یہی یقین اور ایمان پیدا کرنے آتے ہیں۔حضرت اقدس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایک وقت ساری دنیا ایک خیال اور ایک عمل پر جمع ہو جائے گی۔جماعت کے موجودہ امام نے جب ۱۹۷۳ء میں صد سالہ جو بلی کا منصوبہ پیش کیا تو اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ ہم نے ساری دنیا کو ایک وحدت میں پرونے کی کوشش کرنی ہے۔مجلس انصاراللہ کے جو پروگرام ہوتے ہیں ان کی ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ ان میں اتحاد خیال اور اتحاد عمل پیدا کیا جائے۔یہ اجلاس ہمارے اندر یک جہتی ، اخوت اور علمی ترقی کی روح پیدا کرتے ہیں۔جتنا یہ اتحاد فکر وخیال گہرا اور مضبوط ہوگا اتنا ہی ہمیں اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔آپ نے کہا کہ انبیاء اور ان کے خلفاء ہمیشہ اپنے ماننے والوں سے جانی ، مالی ، اور وقت کی قربانیوں کا تقاضا کرتے ہیں۔قرون اولیٰ میں بھی ہمیں یہ قربانیاں نظر آتی ہیں۔سلسلہ کے کاموں کے لئے قربانیوں کو