تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 368 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 368

۳۶۸ چاہیے اور اپنے نفس کا تجزیہ کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ مزید خدا کی راہ میں قربان کرنا چاہیے۔اپنی تمناؤں کو، اپنے اوقات کو، اپنے اموال کو ، اپنے بیوی بچوں کو ، اپنے آرام کو۔اور رضائے باری تعالیٰ کی خاطر یہ سب کچھ کرنا چاہیے جو کچھ بھی ہم خدا کی خاطر چھوڑیں گے اس سے تکلیف نہیں ہوگی۔یہ میں آج آپ کو بتا دیتا ہوں۔بوجھ ہلکا ضرور سمجھیں گے۔پہلے تکلیف ہوا کرتی ہے۔دینے کے بعد انسان تکلیف سے آزاد ہو جاتا ہے۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ میں ایک ضمانت اور ایک مضمون بیان کیا گیا ہے۔بظاہر خدا کی راہ میں انسان کچھ دینے سے ڈرتا بھی ہے اور غم بھی محسوس کرتا ہے کہ جو میرا ہے،اس سے میں یہ کام لے سکتا ہوں۔اسے میں اپنے جسم سے کاٹ کر خدا کو دے دوں۔لیکن جب دے چکتا ہے۔اُسوقت اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ تو غموں اور خوفوں سے آزاد کرنے والا قدم تھا ہموں میں مبتلا کرنے والا نہیں تھا۔اس لئے یہ محض ایک دھوکا ہے ویسا ہی دھوکا جیسے آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دینے کی کوشش کی تھی مگر آپ نے ہنستے ہوئے بڑی محبت اور پیار سے خدا کی محبت کی خاطر اس آگ میں قدم رکھ لیا اور بیک وقت یہ دونوں باتیں ہوئیں کہ ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آگ کی طرف قدم بڑھا رہے تھے اور اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور تقدیر نازل ہو رہی تھی کہ يُنَارُ كُون بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى ابْراهِيمَ کہ اے آگ میرے بندے ابراہیم کے اوپر ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا موجب بن جا۔اس کو کہتے ہیں سجدہ کائنات کا۔مجبور تھی وہ آگ ابراہیم کو سجدہ کرنے پر۔کیونکہ ابراہیم اپنے رب کے حضور کامل طور پر سجدہ کرنے والوں میں سے ہو گئے تھے۔یہی وہ مقام امن ہے جس کے علاوہ دنیا میں کوئی مقام امن نہیں۔اس لئے خطرات جتنے زیادہ ہوں ، اتنی ہی توجہ اور فکر کے ساتھ مومن کو امن کی طرف دوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ورنہ حالات بعض دفعہ ایسی غفلت کی حالت میں انسان کو پکڑ لیتے ہیں کہ پھر سب کچھ پچھتانے کے قصے رہ جاتے ہیں۔اس وقت ہاتھ میں کچھ نہیں آتا۔ذکر الہی پر زور دیں اور سوچ سمجھ کر نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت اور پیار پیدا کرنے کی کوشش کریں۔یہ کام نہ صرف یہ کہ مشکل نہیں ہے بلکہ پُر لطف ہے، آسان ہے، لذتیں دینے والا ہے۔کوئی محنت طلب کام نہیں ہے۔اس کے نتیجہ میں محنتیں آسان ہوتی ہیں، محنت کی طاقت بڑھتی ہے۔یہی وہ راز ہے جس کے نتیجہ میں باہر والے لوگ حیرت سے دیکھتے ہیں کہ ان اہل اللہ نے اتنی بڑی بڑی قربانیاں خدا کی راہ میں کیسے دیں۔وجہ یہ ہے کہ پہلے محبت الہی ان چیزوں کو ان کے لئے آسان کر چکی ہوتی ہے۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یہی وہ مفہوم ہے جوان کے حق میں پیدا ہوتا ہے۔محبت الہی پہلے ہوتی ہے اور وہ محبت ان کو خوف اور حزن سے آزاد کر چکی