تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 367
بلند ہوتی ہے کہ جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خدا کی راہ میں سفر کیا ہے، اُس کی یاد نے یہ شعر نکلوایا ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ جس وقت حضور نے یہ شعر کہا تھا، اس دن حضور نے خدا کے حضور سب کچھ پیش کیا تھا۔یہ کوئی بہت پہلے کا واقعہ ہے جس کی میٹھی یاد کی کیفیت نے بے اختیار آپ کے دل سے یہ شعر نکلوایا ہے جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا وو تا کہ دنیا کو بتائیں کہ جب تک خدا کے حضور سب کچھ پیش نہ کر دیں تم کو وہ لطف امن کا آہی نہیں سکتا۔وہ کامل کیفیت ، وہ کامل اطمینان۔وہ اس زندگی میں وہ زندگی حاصل کر لیں جو مرنے کے بعد نصیب ہوگی اکثر لوگوں کو۔وہ کیفیت ہوتی ہی جب ہے جب انسان ایک باشعور طریق پر سوچ کر سمجھ کر اپنی پیاری چیزیں خدا کو دینا شروع کرے۔یہاں تک کہ جو اپنے دامن میں ہیں ، وہ بھی خدا کے رستہ میں دے دیتا ہے اور جب اپنا دامن خالی پاتا ہے تو اس سے زیادہ بھرا ہوا دامن بھی نہیں پاتا کیونکہ اس وقت آواز آتی ہے کہ ” جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو۔اے میرے بندے تو نے اپنی طرف سے سب کچھ میری جھولی میں ڈالا تھا لیکن اپنی جھولی تو دیکھ وہ سب کچھ اس جھولی میں آ گیا ہے۔تو دیکھ جس کا تو تصور بھی نہیں کر سکتا۔میں جو تیرا ہو گیا تو باقی کیا رہا۔پس یہی وہ مقام امن ہے جس مقام کو خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ سنو خدا کے اولیاء ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کے لئے نہ حزن ہے، نہ کوئی خوف مقدر ہے۔نہ ماضی کا غم اُن کو کچھ چھیڑ سکتا ہے، نہ مستقبل کا خوف ان کے دل پر کوئی چھ کے لگا سکتا ہے۔آزاد منش لوگ ہیں جو کائنات سے بالا ہو جایا کرتے ہیں۔جو وقت اور کون و مکان کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔وہ ایک دائمی خدا کے ساتھ رہنا سیکھ لیتے ہیں اور دائی خدا کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگ جاتے ہیں۔خوف اور حزن تو ادنی چیزیں ہیں۔اُن تک ان کی پہنچ ہی نہیں ہوسکتی۔اب جبکہ خوف اور حزن کے مقامات قریب آ رہے ہیں بظاہر۔اب جب کہ زمانہ ایسی کروٹیں بدل رہا ہے کہ خطرناک حالات منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے ہوئے ہماری طرف آ رہے ہیں، ہمیں زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا