تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 151
۱۵۱ اردو بھی عالمی حیثیت اختیار کر جائے گی انشاء اللہ۔جناب نائب صدر محترم ! میں آپ کے اور یہاں موجود احباب کے درمیان زیادہ دیر حائل نہیں رہنا چاہتا ہم سب آپ کے دورہ کی کہانی آپ ہی کی زبانی سننا چاہتے ہیں۔واقعی آپ نے دورہ کا حق ادا کر دیا ہے بلکہ ہم سب کی توقع سے بڑھ کر۔خدا کے فضل سے سید نا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں کے نتیجہ میں آپ اپنے مقاصد میں بہت نمایاں طور پر کامیاب و کامران رہے ہیں۔۹۰ فیصد مجالس کے عہد یدارن کی تقرری، ۸۵ فیصد مجالس کی کم و بیش سو فیصد تجنید اور ۸۰ فیصد مجالس کے سالانہ بجٹ بنوانا (جن کی تا حال موصول شدہ اطلاعات کے مطابق مجموعی رقم تین لاکھ کے قریب بنتی ہے ) اور بعض بڑی مجالس مثلا لندن اور کینیڈا اور بعض امریکہ کی مجالس کے بجٹ ابھی آنا ہیں جو انشاء اللہ امید ہے کہ سال کے اختتام تک صرف ان نو ممالک کا بجٹ پاکستان کی تمام مجالس کے بجٹ کے لگ بھگ ہو جائے گا۔یہ سب صورت حال مجلس مرکز یہ پر ایک نئی ذمہ داری عائد کر رہی ہے اور دورہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے نئے حالات میں مجلس مرکزیہ کی عالمی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ مجلس مرکز یہ کو احسن رنگ میں نبھانے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ایک بار پھر ہم مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کو خوش آمدید کہتے ہوئے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے پہلے کامیاب عالمی دورہ کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی داستانِ حالات و واقعات اور تجربات کی روشنی میں بتائیں کہ یہ سب کیسے ہوا۔گئے آپ مغرب کی طرف تھے اور آئے مشرق کی طرف سے۔پوری دنیا کا چکر لگا کر۔کامیاب و کامران۔الحمد للہ ، 21 ) مکرم نائب صدر صاحب کا خطاب استقبالیہ ایڈریس کے جواب میں مکرم نائب صدر صاحب نے اراکین مجلس عاملہ کے نیک جذبات کا شکریہ ادا کیا اور بیان فرمایا کہ اس دورے میں جن سے ۵ مجالس کا قیام عمل میں آیا اس کی تفصیل یوں ہے: یورپ میں ۱۳ مجالس، انگلستان ۱۷، کینیڈا ۸ اور امریکہ ۱۹ دورے کے اغراض و مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ ان ممالک میں مجلس انصار اللہ کی تنظیم کے قیام کے سلسلے میں فوری توجہ کے مستحق یہ امور تھے کہ ان ممالک میں انصار کی تجنید کرنی تھی۔مقامی ، علاقائی اور ملکی سطح پر عہدیداروں کا تقر رکیا جانا تھا۔ہر ملک کے حالات کے پیش نظر نسبتا مختصر لائحہ عمل تجویز کرنا اور اس کے نفاذ کیلئے ضروری رہنمائی کرنا، مجالس کے گذشتہ کاموں کی رپورٹیں حاصل کرنا اور آئندہ سے رپورٹیں باقاعدگی سے بھجوانے کی تلقین کرنا۔اس کے علاوہ تربیتی اور تعلیمی مساعی، تربیت اولاد اور اصلاح وارشاد کے سلسلہ میں بیداری