تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 150
۱۵۰ چناب، دریائے رائین، دریائے ٹیمز کے پلوں کے نیچے سے اور نیا گرا جھیل کے اوپر سے بہت زیادہ پانی بہہ چکا ہے اور دورہ سے قبل کے مقابلہ میں آج مجلس انصار اللہ کی عالمی حیثیت پہلے سے کہیں بڑھ کر ٹھوں، پائیدار منتظام اور شر آور ہو چکی ہے اور انشاء اللہ اس کے شیریں پھل سے آنے والی نسلیں مستفیض ہوتی رہیں گی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیمی دورہ کی تاریخی حیثیت ثبت ہوتی رہے گی۔جناب نائب صدر صاحب! آپ ایسے ایسے ملکوں میں بھی تشریف لے گئے جہاں مجلس کے وجود کی ضرورت کا احساس بہت کم تھا۔آپ نے ان ممالک میں نہ صرف موقع محل کے مطابق ضرورت کا احساس اجاگر کیا بلکہ آپ نے لگا تار سفر کے ان ۲ے دنوں میں پچاس کے قریب ( معین طور پر ۴۸) مجالس کے قیام کے ساتھ وہاں کی تجنید اور دوسرے کوائف اکٹھے کر کے مجالس کو مستحکم بنیا دمہیا کرنے کی خاطر فردا فرداہر رکن انصار اللہ سے چندہ مجلس از خود لکھوانے کی بھر پورسعی کی اور آپ اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب رہے۔آپ کی یہ کامیابی اور بھی درخشاں ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان ممالک ماحول، حالات اور انتہائی مادیت کے شکار معاشرہ میں رہنے والوں کو جب آپ نے دین کی ذمہ داریوں کی طرف بلایا تو بعض کے لئے اس قسم کا مطالبہ کہ مجلس کی تشکیل کرو اور پھر چندہ مجلس تعمیر گیسٹ ہاؤس میں وعدہ دو ماہنامہ انصار اللہ لگواؤ اور سالانہ بجٹ بناؤ اور اس کے مطابق ادا ئیگی کرد وغیرہ وغیرہ۔یہ سب ایسی باتیں تھیں جو ان مختلف ملکوں کے ماحول و حالات میں وہاں آج تک نہ اس انداز میں کسی نے کہیں اور نہ کسی نے سنی تھیں لیکن آپ نے نہایت حکمت و دانائی اور صبر وتحمل سے ایسے انصار کو سمجھایا اور کامیابی سے سمجھایا اور انہیں قائل کیا اور یہ دوست قائل بھی ہوئے کہ واقعی انصار اللہ کی تنظیم کی موجودگی ضروری ہے بلکہ سرگرم موجودگی نہایت اہم اور ناگزیر ہے اور یہ کہ اس سلسلہ میں اب تک جو ستی ہغفلت اور کوتا ہی ہو چکی ہے اس کا ازالہ جتنی جلدی ممکن ہو بہتر ہے۔آپ نے ہر ممکنہ کوشش سے انصار اللہ اور ان کے خاندان اور بچوں کے کوائف ، ان کی تعلیمی اور تربیتی حالت، دینی معلومات اور سب سے بڑھ کر یہ بھی جائزہ لیا کہ ان ترقی یافتہ مگر انتہائی غلط راه رو و مادیت زدہ ماحول کے حامل معاشروں میں احمدی بچے اپنے اصل سے دُور تو نہیں جار ہے۔آپ کے اس جائزہ سے یہ تکلیف دہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریباً پچاس فیصد نئی احمدی نسل ان ملکوں کی سیدنا حضرت اقدس کی زبان اردو سے بہت دور جا چکی ہے اور آپ نے انصار کو اس پہلو سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور پابند کیا کہ اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ اردو زبان بولنے لکھنے سے غافل نہ رکھا جائے کیونکہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب ہماری زبان