تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 115
۱۱۵ IS A GREAT LEVELLER" ISLAM" سب اونچے سر جو تھے ان کو ایک برابر کر کے کھڑا کر دیا۔سب بھائی بھائی برابر۔پریس والے علیحدہ بھی ملتے ہیں بعض دفعہ۔پھر وہ پڑ جاتے ہیں تفصیل میں۔اپنے متعلق بتلائیں کیا مقام ہے آپ کا؟ میں نے کہا میرا مقام؟ ایک میرا مقام ہے ہدایت دینے کا ، ایک میرا مقام ہے ہر احمدی میرا بھائی ہے اور ہر احمدی ( یہ حقیقت ہے ) سمجھدار ہے۔وہ آتا ہے، میرے ساتھ بیٹھتا ہے، بالکل بے تکلف باتیں کرتا ہے۔عورتیں خط لکھ دیتی ہیں مجھ کو ، اپنے باپ کو وہ خط نہیں لکھ سکتیں جو مجھے لکھ دیتی ہیں۔تو اب میں کیا چیز ہوں یعنی اگر میں ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کروں تو سب سے بڑا دنیا کا پاگل میں ہوں گا مگر خدا کا فضل ہے میں پاگل نہیں ہوں۔میں اپنے مقام کو بھی جانتا ہوں اور اپنے خدا کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ - مجھ سے کینیڈا میں پوچھا ایک شخص نے کہ اسلام میں وحی اور الہام کا کیا تصور ہے۔ان لوگوں کی عادت ہے کہ جو بھی بتاؤ کہتے ہیں کہ بائیل میں بھی یہی لکھا ہوا ہے۔میرے ساتھ تو چالاکیاں کرنی مشکل ہیں۔میں نے کہا پہلے تم مجھے یہ بتاؤ کہ بائیل میں وحی اور الہام کا کیا تصور ہے۔اُس نے بتایا بائیبل کیا کہتی ہے۔پھر میں نے اُس کو بتایا کہ اسلام میں وحی اور الہام کا یہ تصور ہے اور میں تمہیں مثال دیتا ہوں ۱۹۷۴ء کی۔جب یہ کہا گیا کہ سوال و جواب ہوں گے اور اُسی وقت آپ نے جواب دینا ہوگا تو صدر انجمن احمدیہ نے لکھا کہ نوے سال پر لٹریچر پھیلا ہوا ہے۔سینکڑوں کتابیں ہیں اور امام جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ ہر گز نہیں کہ ساری کتب ان کو زبانی یاد ہیں۔اس واسطے ایک دن پہلے آپ سوال کریں اور اگلے دن جواب مل جائے گا۔انہوں نے کہا نہیں یہی ہوگا۔طبعا بڑی اہم ذمہ داری تھی اور پریشانی بھی۔ساری رات میں نے خدا سے دُعا کی۔ایک منٹ نہیں سویا، دعا کرتا رہا۔صبح کی اذان کے وقت مجھے آواز آئی بڑی پیاری وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِءِ يُنَ ہمارے مہمانوں کی فکر کرو۔وہ تو بڑھتے ہی رہیں گے تعداد میں۔اب دیکھانا ساری قناتیں اُٹھانی پڑیں آج۔وَسِعُ مَكَانَكَ مہمان بڑھتے چلے جائیں گے ، ان کی فکر کرو، اپنے مکانوں میں وسعت پیدا کرو، استہزاء کا منصوبہ ضرور بنایا ہے انہوں نے مگر اس کے لئے ہم کافی ہیں۔کہتے ہیں باون گھنٹے دس منٹ میرے پر جرح کی اور باون گھنٹے دس منٹ میں نے خدا کے فرشتوں کو اپنے پہلو پہ کھڑا پایا۔بعض اور باتیں بتا ئیں میں نے ان کو۔بعض لوگوں نے کہا آپ ابھی لکھا دیں ہمیں۔میں نے کہا لکھ لو۔وہ کہتا کہ یہ کیسے پتہ لگے یہ خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات ہے۔میں نے کہا مستقبل بتا تا ہے۔جو بات کہی جائے اگر وہ پوری ہو