تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 114
۱۱۴ میں کوئی اور انسان نہ کسی نے پیش کیا ، نہ کوئی کر سکتا ہے، نہ کر سکے گا۔یہ اپنی جگہ درست لیکن آپ بشر بھی ہیں ، انسان بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا کہ دنیا میں یہ اعلان کر دو کہ بشر ہونے کے لحاظ سے میں ہر انسان کے برابر ہوں۔کسی انسان ، مرد ہو یا عورت اُس میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ اور یہ اتنا عظیم اعلان ہے کہ جس وقت میں نے ۱۹۷۰ء میں غانا ہی میں ٹیچی مان کے مقام پر دس ہزار کے مجمع میں اور بہت سارے اُس وقت آئے ہوئے تھے بُت پرست وغیرہ بھی یہ اعلان کیا۔اُن کا لاٹ پادری بھی آیا ہوا تھا وہاں اور کہنے والوں نے بتایا کہ وہ اس طرح اچھلا جس طرح کسی نے اُسے سوئی چھودی ہے۔آج وہی عزت پائے گا جو قرآن کریم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے والا ہوگا خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو زیادہ عزت پائے گا، دنیا کی نگاہ میں وہی زیادہ معزز بن جائے گا۔خدا تعالیٰ کی نگاہ سے گر کے نہ تمہارا مغل ہونا ، نہ تمہارا سید ہونا، نہ تمہارا پٹھان ہونا ، نہ تمہارا چوہدری ہونا، نہ راجپوت ہونا قطعاً کوئی معنے نہیں رکھتا اگر تم خدا کی بات نہیں مانتے ، اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کے لئے تیار نہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا بھی تمہیں جوتیاں مارے گی اور تمہاری کوئی عزت نہیں کرے گی۔آج وہی عزت پائے گا جو قرآن کریم کی عزت کرنے والا ہو گا۔آج وہی عزت پائے گا جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو اس مضبوطی سے پکڑے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس سے اس دامن کو چھڑوا نہیں سکے گی۔آج وہی عزت پائے گا جو خدائے واحد ویگانہ کی وحدانیت کے ترانے گاتا ہوا اپنی زندگی کے دن گزارے گا۔خدا تعالیٰ خالقِ گل ما لک کل ، ساری صفات حسنہ اُس میں پائی جاتی ہیں۔ایسی عظیم ہستی ہے کہ انسان اُس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔وہ پیار کرنا چاہتا ہے اپنے بندوں سے۔اُس نے پیدا کیا ہے بندوں کو اس لئے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنِّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ کہ اُس کی صفات کی جھلک اُس کے بندوں میں ہو، وہ رنگ چڑھے، وہ حسن ان میں پیدا ہو، وہ نور اُن کی زندگیوں سے جھلکے۔جس کی زندگی میں اللہ کا نور چمک رہا ہو، جس کی زندگی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن کے نقوش پائے جاتے ہوں، کون ہے جو دنیا میں اُس کی عزت نہیں کرے گا۔لیکن تم اپنے زورِ بازو سے کسی سے بھی عزت نہیں کروا سکتے۔یہ دنیا کی عزتیں ساری جھوٹی عزتیں ہیں۔یہ خوشامدوں میں لپٹی ہوئی دنیا کی عزتیں ، یہ دروغ گوئی میں لپٹی ہوئی ، دنیا کی عزتیں عارضی ہیں۔آج جو شاہی تخت پر بیٹھا ہے کل وہ آپ کو دار پر نظر آتا ہے۔یہ تاریخ کے افسانے نہیں ہیں ، یہ آج کے واقعات ہیں اس زندگی کے۔سب بڑائیاں اسلام نے ختم کر دیں۔میں تو انگریزی میں کہا کرتا ہوں۔