تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 116
جائے اس کا مطلب ہے خدا نے بتائی۔خدا کے علاوہ تو آئندہ کی بات کوئی نہیں بتا سکتا۔علام الغیوب صرف خدا تعالیٰ کی ہستی ہے۔پھر میں نے مزید بتایا۔میں نے کہا میں بچوں سے پوچھتا ہوں۔بعض دفعہ کہ کوئی سچی خواب آئی۔چھوٹے چھوٹے زمینداروں کے بچے دیہات میں رہنے والے، ماحول اُن کا اسی قسم کا ہے، وہ کہتے ہیں جی ہمیں خواب آئی سچی۔کیا خواب آئی سچی ؟ جی بھینس کے بچہ ہونے والا تھا اور خدا نے ہمیں خواب دکھائی کہ کٹی ہوئے گی نہ دیہہ (دس ) دن بعد کئی ہوگئی۔“ چھوٹی سی بات ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اُس بچے کے ساتھ بچے کی زبان میں بات کرنی ہے۔اُس بچے کے ساتھ ابن خلدون کے فلسفہ میں گفتگو نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ۔بچہ سمجھ ہی نہیں سکتا اُس کو۔تو خدا تعالیٰ نے پہلے دن بچپن میں یہ سبق دینا ہے کہ میں ہوں اور علام الغیوب ہوں اور طاقتوں والا ہوں اور وہ اس کو تربیت دیتا ہے۔آپ لوگ تو تربیت میں سُست ہو گئے۔خدا تعالیٰ تو سست نہیں ہوا۔وہ ہماری جماعت کی تربیت کرتا چلا جاتا ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا بعض باتیں انصار اللہ کے متعلق ہیں۔انصار اللہ کی ذمہ داریاں ہیں زیادہ یعنی خاندان ہے شادی ہوئی ہوئی ہے، بیوی ہے، بچے ہیں، اکثر یہاں وہی بیٹھے ہوں گے۔قرآن کریم نے کہا ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارًا پہلی ذمہ داری انسان پر اُس کے نفس کی ہے اور دوسرے نمبر پر اُس کے خاندان کی ہے۔خدا کہتا ہے خود اپنے نفسوں کو اور اپنے خاندانوں کو خدا تعالیٰ کے غضب سے بچانے کی کوشش کرو۔اور قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچنے اور بچانے کی تدابیر خود بیان کی ہیں۔بڑی عظیم کتاب ہے یہ۔صراط مستقیم جو ہے وہ خود بتایا ہمیں۔ہر آدمی کے لئے بعض پہلواُسی کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔دعا ئیں سکھائیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - وَارِنَا مَنَاسِكَنَا۔ہم سے تعلق رکھنے والے جو پہلو ہیں وہ ہم پر اُجاگر کر ، تا کہ وہ راستہ جو تیری رضا کی طرف لے جانے والا ہے اُس تک میں اور میرا خاندان پہنچے۔اگر جماعت احمدیہ کے سارے خاندان خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں تو جماعت احمد یہ دنیا کے لئے ایک مثالی جماعت بن جاتی ہے۔“ حضور نے پر شوکت الفاظ میں پیشگوئی فرمائی کہ وہ وقت آنے والا ہے جب دنیا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔حضور نے احباب جماعت سے یہ عہد کرنے کی تلقین کی کہ وہ ہر حال میں خدا تعالیٰ اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو اس مضبوطی سے تھامے رکھیں گے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ہم سے چھڑا نہ سکے گی۔چنانچہ حضور نے فرمایا: