تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 107 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 107

صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان افروز تقریر کی۔آپ نے صحابہ کے صبر و استقلال کے پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے بہت سے کبار صحابہ کے واقعات بیان کئے اور بتایا کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اس زمانہ میں آج بھی ہمیں وہ نظارے دیکھنے میں آتے ہیں۔اس ضمن میں آپ نے حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کی قربانی کا بھی ذکر کیا۔مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر ضلع شیخو پورہ جو حضور اقدس کے حالیہ دورہ بیرونی ممالک میں آپ کے ہمراہ تھے ، سفر کے ایمان افروز حالات سنائے۔تقاریر کے دوران مکرم ماسٹر برکت علی صاحب نے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی مشہور نظم علیک الصلوۃ علیک السلام “ خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔دوسرادن اجلاس اوّل وو دن کی ابتداء سوا چار بجے نماز تہجد سے کی گئی۔نماز فجر کے بعد اجلاس اوّل شروع ہوا۔اس اجلاس کا بنیادی عنوان درود شریف کی برکات تھا۔مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب نے قرآن کی آیت اِنَّ اللهَ وَمَلَبِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي۔۔۔کی تلاوت فرمائی اور بڑے دلکش اور مؤثر انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کی برکات پر روشنی ڈالی۔بعدہ مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب دیا گڑھی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے فضائل اور برکات پر مشتمل چند احادیث کا درس دیا۔مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے ملفوظات حضرت مسیح موعود میں سے چند حوالے پڑھ کر سنائے جن میں اس عاشق رسول نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی برکت اور فضائل بیان فرمائے ہیں۔درس کا یہ سلسلہ پانچ بج کر پینتیس منٹ سے لے کر چھ بج کر ہمیں منٹ تک جاری رہا۔چند ضروری اعلانات کے بعد چھ بج کر پچیس منٹ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر تین تقاریر ہوئیں۔حضور کی اہلی زندگی کے بارہ میں مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل نے پندرہ منٹ تک تقریر کی۔مکرم بشیر احمد خان صاحب رفیق نے حضور کی ہمدردی مخلوق“ کے موضوع پر تقریر کی اور پھر صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق تربیت پر نہایت دلکش اور مؤثر رنگ میں خطاب فرمایا۔سو اسات بجے صبح یہ اجلاس ختم ہوا اور ناشتہ وغیرہ کے لئے وقفہ ہوا۔اجلاس دوم اجلاس ٹھیک پونے نو بجے مکرم چوہدری انور حسین صاحب کی صدارت میں مکرم حافظ بشیر الدین عبیداللہ صاحب کی تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا جس کے بعد مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب سکھر نے ایک نظم پیش کی۔