تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 108 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 108

1+1 نو بجے سے ساڑھے نو بجے تک صحابہ رسول ” حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی سیرت پر علی الترتیب مکرم مولوی برکت اللہ صاحب محمود اور مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے تقاریر کیں۔ساڑھے نو بجے مکرم پروفیسر بشارت الرحمان صاحب نے صد سالہ احمد یہ جو بلی کے تحت تعلیمی منصوبہ اور ہماری ذمہ داری“ کے عنوان پر ایک مؤثر تقریر کی۔”ہورہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار دس بج کر دس منٹ پر مندرجہ بالا عنوان کے ماتحت کچھ نئے احمدی احباب نے خدائی القاء اور رویاء صالحہ اور الہامات کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ میں شمولیت کے نہایت پر اثر اور ایمان افروز واقعات بیان کئے۔ان میں مکرم حافظ صوفی محمد یار صاحب ملتان ، مکرم چوہدری محمد رمضان صاحب، مکرم سعید بلال صاحب، مکرم چوہدری محمد یعقوب صاحب اور مکرم ماسر محمد شریف صاحب وغیرہ کے واقعات شامل ہیں علاوہ ازیں مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب، مکرم مولوی عبد المالک خان صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے بھی اس طرح کے بصیرت افروز واقعات بیان فرمائے۔اجلاس مجلس شوری گیارہ بجے شوری کا پروگرام حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس کی صدارت میں شروع ہوا جس میں مجلس انصار اللہ کا سال ۱۹۸۱ء کا بجٹ زیر بحث آکر منظور ہوا۔ڈیڑھ بجے سے تین بجے تک طعام اور نماز ظہر و عصر کے لئے وقفہ ہوا۔﴿۳۸﴾ اجلاس سوم ٹھیک تین بجے صدر محترم کی زیر صدارت تیسرا اجلاس شروع ہوا۔کارروائی کا آغاز مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مصلح موعود کی ایک نظم پڑھ کر سنائی۔ازاں بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے قرآن کریم کا درس دیتے ہوئے قرآن پاک کی آیت إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ کی نہایت پر معارف اور لطیف تفسیر فرمائی اور مالوں اور جانوں کی قربانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ اسی میں فوز عظیم کا راز مضمر ہے۔درس قرآن کریم کے بعد صحابہ حضرت مسیح موعود ، حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مولانا شیر علی صاحب کی سیرت پر علی الترتیب مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب ناظر اصلاح وارشاد اور مکرم مولانا