ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 25

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۵ اردو تر جمه ولا يستقرى الحمام الجيفة و لو اور نہ کبوتر مُردار پر گرتا ہے چاہے بھوک اسے لفظه الجوع الى معامى التباب ہلاکت کے بیابانوں میں پھینک دے۔کیا وہ يعيبون نبينا على الشغف ہمارے نبی پر عورتوں کی طرف رغبت کا عیب بالنساء۔وكان يسوعهم لگاتے ہیں جبکہ اُن کے یسوع پر تو کھانے کی قد عیب علی شره الاکل شدید حرص اور شراب پینے کا الزام لگایا گیا اور و شرب الصهباء۔وقد ثبت من انجیل سے بھی ثابت ہے کہ اس نے بد کا رعورت الانجيل انه آوى عنده بغية کو اپنے پاس پناہ دی اور وہ زانیہ، فاسقہ اور و كانت زانية و فاسقة وشقية۔بدبخت تھی اور وہ اُجلے کپڑوں میں ملبوس وكانت امرأة شابة في ثياب خوش شکل جوان عورت تھی ، پس وہ نہ تو اس سے نظيفة۔مع صورة لطيفة۔فما دُور گیا اور نہ ہی وہاں سے اُٹھا اور نہ ہی اس انصرف عنها وما قام۔وما سے اعراض کیا اور نہ ہی ملامت کی۔بلکہ اس اعرض عنها وما الام بل سے مانوس ہوا اور محبت کا اظہار خوش کلامی سے استأنس بها و آنس بطیب کیا حتی کہ اس نے بے شرمی دکھائی اور اس الكلام۔حتى جلعت و مسحت (یسوع) کے سر پر اپنا عطر ملا جو اس ( عورت ) على راسه من عطرها التي كان کی حرام کی کمائی کا تھا اور اسی طرح وہ (یسوع) قد كسب من الحرام۔و ایک اور بد کار عورت کے پاس گیا اور اس سے كذالك اقبل على بغية اخرى بات چیت کی اور اس ( بد کار عورت ) نے (۱۹) وكلّمها۔وسئلت وعلمها و سوال کئے اور اس (یسوع ) نے اسے علم سکھایا هذه حركات لا يستحسنها تقی اور یہ ایسی حرکات ہیں کہ کوئی متقی اسے پسند نہیں فما الجواب ان اعترض شقی کرتا پس اگر کوئی بد بخت اعتراض کرے تو اس ولا شك ان النکاح على وجه کا کیا جواب ہے اور کوئی شک نہیں کہ حلال الحلال خير من تلك الافعال طریق پر نکاح کرنا ایسی حرکتوں سے بہتر ہے اور ۳۹۹