ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 24

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۴ اردو تر جمه ولو انصفنا لشهدنا ان هذه اور اگر ہم انصاف سے کام لیں گے تو ضرور ہم یہ السلطنة ردّت الینا ایام الاسلام گواہی دیں گے کہ اس سلطنت نے ہمیں اسلام و فتحت علينا ابوابا لنصرة دین کے ایام واپس لوٹا دیئے اور ہم پر دین خیر الانام صلی خير الانام۔و كنا فى زمن دولة اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے دروازے کھولے جب الخالصة۔اوذينا بالسيوف کہ سکھوں کی حکومت کے زمانے میں ہمیں والاسنة۔وما كان لنا ان نقيم تلواروں اور نیزوں سے تکلیف دی گئی اور الصلوة على طريق السنة۔و ہمارے لئے ممکن نہ تھا کہ ہم مسنون طریق پر نماز نؤذن بالجهر كما نُدب عليه فى ادا کر سکیں اور بآواز بلند اذان دے سکیں جیسا کہ الملة۔و لم يكن بد من الصمتِ دین میں حکم دیا گیا ہے اور ان کی ایذاء دہی پر على ايذاء هم۔و لم يكن سبیل خاموشی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا اور لدفع جفاء هم فرددنا الى الامن ان کے ظلم کو دور کرنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔پس اس والامان عند مجيء هذه سلطنت کے آنے سے ہم امن و امان کی طرف السلطنة۔و ما بقى الا تطاول لوٹ آئے اور صرف پادریوں کی زبان درازیاں قسيسين بالالسنة وجعل باقی رہ گئیں۔اور آزادی نے ہر جنگ کو دونوں الحرية كل حرب سجالا۔ولكنا فریقوں کے لئے برابر بنا دیا، لیکن ہم نے دُشنام تركنا القذف بالقذف لئلا نشابه دہی کے مقابلے پر دُشنام دہی اختیار نہ کی تاکہ ہم دجالا۔ولا نكون من بھی دجال کے مشابہ نہ ہو جائیں اور نہ ہی ہم المتعسفين۔وما منعت السلطنة ظالموں میں سے ہوں۔اور حکومت نے ہمیں اُن ان نفتح الالسن بالجواب بل لنا کو ترکی بہ ترکی جواب دینے سے نہیں روکا بلکہ ان نقول اكبر مما قالوا و نصب ہمارے لئے ممکن تھا کہ ہم ان سے بھی بڑی بات عليهم مطرا من العذاب۔ولكن کہیں اور ہم ان پر عذاب کی بارش برسائیں لیکن المرء لا يصدر منه فعل الكلاب ایک انسان سے کتوں کا فعل تو صادر نہیں ہوسکتا ۳۹۸