ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 23

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۳ اردو تر جمه ونبا بنا مالف الوطن و اخرجنا اور وطن سے مانوسیت ہمیں راس نہ آئی اور ہمیں 12 من البقعة۔وكانت آباءنا اپنی جگہ سے نکال دیا گیا اور ہمارے آباؤ اجداد اقتعدوا غارب الاغتراب۔بما بے وطن ہو گئے۔کیونکہ ان کو مجبور کیا گیا اور انہیں اكرهوا و بعدوا من الاتراب۔ہم عمروں سے دُور کیا گیا پس انہوں نے اپنے فتر کوا دار ریاستهم وجميع ریاست کے مرکز اور جتنی بھی اُن کی بستیاں تھیں ما كان لهم من القرى و نَصّوا سب کو چھوڑا اور انہوں نے رات کی سواریوں کو تیز ركاب السرى۔وجابوافی دوڑایا اور انہوں نے اپنے سفر میں سنگلاخ سيرهم وعورا۔وتركوا راحة و راستوں کو عبور کیا اور انہوں نے راحت اور خوشی کو حبورا۔وانضوا اجار دهم ترک کیا اور انہوں نے چلا چلا کر اپنے اعلیٰ نسل کے تسيارا۔و ما رأوا ليلا و لا نهارا۔کم مو گھوڑوں کو دبلا کر دیا اور انہوں نے رات حتى وردوا حمى رياسة كفلتهم دیکھی نہ دن یہاں تک کہ وہ ایسی ریاست کی پناہ بحراسة۔فسروا ایجاس الخوف میں چلے گئے جس نے ان کی حفاظت کی ذمہ داری واستشعاره الى ايام و رأو ا لعاع اُٹھائی۔پس انہوں نے ایک عرصہ تک کے لئے الامن و ازهاره بعد۔آلام ثم خوف کا احساس اور شعور دور کیا اور انہوں نے دکھوں طلعت علينا شمس الدولة کے بعد امن کی شگوفے اور اس کے پھول دیکھے، البرطانية وامطرت مُزن پھر ہم پر حکومت برطانیہ کا سورج طلوع ہوا اور الـعـنـايـات الرحمانية فتسربلنا خدائے رحمن کی عنایات کے بادل بر سے۔پس ایام لباس الامــن بـعـد ايام الخوف خوف کے بعد ہم نے امن کا لباس پہنا اور ہم وصرنا مخصبين نعم العوف۔آسودہ اور خوش حال ہو گئے۔پس ہم اور ہمارے فعدنا و اباء نا الی منبت شُعبتنا آباء اپنے آبائی وطن کی طرف لوٹے اور ہم پر دلیس و ملنا الى الاوكار من فَلا غُربتنا کے جنگلوں سے اپنے آشیانوں کی طرف آئے اور ہم وهنّأنا انفسنا فرحین نے خوش ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مبارکبادیں دیں ۳۹۷