ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 19
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۱۹ اردو تر جمه فكيف لا نشكر لهم و نعلم پس کیسے ہم ان کا شکر یہ ادا نہ کریں حالانکہ ہم انهم احسنوا الينا۔و كيف جانتے ہیں کہ انہوں نے ہم پر احسان کیا ہے۔اور نفارقهم و ندرى انهم حرساء ہم کس طرح ان کو چھوڑ سکتے ہیں حالانکہ ہم الله علينا والله يحب جانتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے المحسنين۔و كنا قبل ذالک نگہبان ہیں اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو غُصِب منا قرانا و عقارنا پسند کرتا ہے اور اس سے پہلے ہمارے دیہات اور و حرب دار قرانا و مقارنا مال و متاع ہم سے چھین لئے گئے اور ہمارے و دسنا تحت انتياب النوب مہمان خانے اور نشست گاہ کو برباد کیا گیا اور ہمیں وتوالى الكرب۔وصفرت کے درپے اور مسلسل مصیبتوں سے کچلا گیا اور ہم راحتنا۔وفرغت ساحتنا۔تهیدست ہو گئے اور ہمارے صحن خالی ہو گئے ى أخرجنا من املاک یہاں تک کہ ہمیں ہماری املاک اور زمینوں اور و ارضين وقصور و بساتین محلات اور باغوں اور وطنوں سے غمزدہ اور کبیدہ خاطر و اوطان مكتئبین مغتمین ہونے کی حالت میں نکالا گیا اور ہمیں چوپایوں کی وطردنا كالعجماوات۔ووُطِئنا مانند دھتکارا گیا اور ہمیں بے جان چیزوں کی طرح كالجمادات۔وسلكنا مسلک روندا گیا اور ہم سے غلاموں اور نوکروں کا سا سلوک العبـاد والـغـلـمـان۔ولـحـقـنـا کیا گیا اور ہم بنی نوع انسان میں سے مرتبے کے بالار ذلين منزلة من نوع لحاظ سے سب سے کم ترین لوگوں سے جاملے۔اور الانسان۔وربما اتمنا بأخف بعض دفعہ ہم سے جانوروں کو ہلکا سا زخم لگنے اور ہمیں جرح اصاب منا حیوانا۔کسی معمولی سی ٹہنی کاٹنے کے بدلہ میں مجرم ٹھہرایا اوبما قطعنا اغصانا فقتلنا گیا پھر ہمیں قتل کیا گیا یا ہمیں مصلوب کیا گیا یا او صلبنا او اجلئنا تارکین ہمیں وطنوں کو چھوڑنے اور غریب الوطنی اختیار اوطانا و متغربين۔ثم رحمنا الله کرنے پر مجبور کیا گیا پھر اللہ نے ہم پر رحم فرمایا اور ۳۹۳