تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 30 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 30

30 30 حالت میں کہ اچانک قادیان چھوڑنے کا سخت غم تھا۔کبھی گھر سے اس طرح نکلنے اور اتنے ظلم وستم کا خیال تک نہ آیا تھا۔جب رتن باغ لاہور کی ڈیوڑھی میں پہنچی تو اندھیرے میں ایک سایہ بڑھتا ہوا نظر آیا اُس نے بیٹری کی روشنی میں مجھے دیکھا اور گلے لگا لیا اور خیریت دریافت کی۔وہ رکس کا سایہ تھا۔حضرت آپا جان مریم صدیقہ صاحبہ تھیں جو اس وقت ہر آنے والی عورت کا استقبال کر رہی تھیں۔انہیں دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی ساری پریشانی دور ہوگئی اور بے اختیار زبان سے الحمداللہ نکلا۔آپ نے ایک برآمدہ میں ٹھہرانے کے انتظام کے بعد فرمایا کہ کمرہ سے بہتر برآمدہ ہے کیونکہ ہو ا کثیف اور ہیضہ وغیرہ پھیلا ہوا ہے۔(۲۹ ستمبر ) رات گیارہ بجے عاجزہ کو حضرت آپا جان کا ایک رقعہ ملا جو حسن اتفاق سے میرے پاس اب تک محفوظ ہے۔یہ رقعہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔مکرمہ امتہ الطیف صاحبه جس عمارت میں عورتیں ٹھہری ہیں اب تک مجھے ہر کام خود آ کر کروانا پڑتا تھا۔اب میں تمھیں اس کی منتظم مقرر کرتی ہوں۔تم خود کام کا ایک پروگرام اور نقشہ بنالو۔کھاناسارا ایک جگہ تقسیم ہوتا ہے اور بڑی گڑ بڑ رہتی ہے۔اگر ہر کام کی الگ الگ منتظم بنا دو تو وہ اپنے اپنے کام کی ذمہ دار ہونگی۔اور اپنے اپنے کمرہ کی عورتوں کو گن کر کھانا لے لیا کریں اس طرح عورتوں کو ہر وقت صفائی کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے اس کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ عورتوں میں پھر کر اعلان کر دیا جائے کہ مغرب عشاء کی نماز با جماعت ہوا کر یگی۔عصر اور ظہر کی بھی اور اگر ہو سکے تو فجر کی بھی۔اور نمازوں کے بعد چند منٹ عورتوں کو دعاؤں کی تحریک۔صفائی وغیرہ کی اور اس قسم کی تمام نصائح ہوا کریں۔ان تمام باتوں پر غور کر کے جتنی کام کرنے والیوں کی ضرورت ہو۔مجھ سے لے لو اور بات بھی زبانی کرلو۔والسلام مریم صدیقہ میں نے آپا جان کا یہ خط پڑھ کر دل میں دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ کی توقع کے مطابق یہ حقیر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔صبح اٹھ کر تفصیلی ہدایات لینے کی غرض سے حضرت آپا جان کی خدمت میں حاضر ہو گئی۔آپ