تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 29
29 29 وہ احمدی مہمان شامل نہیں ہیں جو جماعت احمدیہ کے مرکز میں کثرت سے آتے رہتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان میں سے اکثر کوٹھہرانے اور جگہ دینے کے لئے ہمارے پاس کوئی انتظام موجود نہیں ہے اور وہ ادھر اُدھر پرائیوٹ گھروں میں ٹھہر کر نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جو خاندان ان عمارتوں میں آباد ہیں ان میں سے کئی ایسے ہیں جو قادیان میں پانچ پانچ یا دس دس یا بعض صورتوں میں پندرہ پندرہ یا اس سے بھی زیادہ کمروں کے مکانوں میں رہائش رکھتے تھے مگر اب انہیں رتن باغ یا اس کی ملحقہ عمارتوں میں ایک یا دو کمروں میں بڑی تنگی کے ساتھ گذارا کرنا پڑتا ہے۔عورتوں اور بچوں کے قیام وطعام کے انتظامات: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ ہدایت تھی کہ مردشتی الامکان قادیان میں ٹھہر کر مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیں البتہ عورتوں اور بچوں کو جلد سے جلد سے قادیان سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔اسی ہدایت کے نتیجہ میں قادیان سے یکے بعد دیگرے جو بھی کنوائے آتے تھے ان میں زیادہ تر آنے والے بچے اور عورتیں ہی ہوتی تھیں۔کثرت سے ایسے خاندان ہوتے تھے کہ جن کے مرد قادیان میں ہی ہوتے تھے اور عورتیں اور بچے لاہور آ جاتے تھے۔نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ان عورتوں اور بچوں کو ٹھہرانے اور ان کے قیام و طعام کا تمام انتظام سلسلہ کے سپر د تھا۔سلسلہ کی طرف سے اس بہت بڑے کام کو بخیر و خوبی سر انجام دینے کا سہرا حضرت سیدہ اُمم متین مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا العالی کے سر رہا جو اس کٹھن کام کو دیگر کارکنات کی مدد سے حضرت مصلح موعود کی زیر ہدایت دن رات سرانجام دیتی تھیں۔اور حضور کا اور آپ کا مشفقانہ سلوک ہر آنے والی کے لئے ایسا ہوتا تھا کہ وہ شدید صدمہ اور ہر طرح کی تنگی کے باوجود حضور کے زیر سایہ آکر آرام اور تسکین محسوس کرتی تھی۔حضرت سید ہ ممدوحہ بذات خود ہر ایک کے لئے مہمان خانہ سے کھانا منگوا کر تقسیم فرماتیں۔ان کے لئے کپڑے اور بستر فراہم کرتیں۔ان کی رہائش کے لئے جگہ کا انتظام کرواتیں اور بیمار کے علاج کا انتظام فرماتیں۔اس بارہ میں میں اپنا ذاتی مشاہدہ پیش کرتی ہوں۔عاجز ہ۲۹ستمبر کو قادیان سے اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمراہ لاہور پہنچی۔اس ا الفضل ۲۱۔اگست ۸ صفحه ۲ کالم نمبر ۱۔۲