تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 31
31 نے حضرت اقدس۔حضرت اماں جان اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی سے ملاقات کروائی اور یہ بھی بتایا کہ میں کام لطیف کے سپر د کر رہی ہوں۔کھانے کے متعلق ہدایات دیں۔ایک ایک روٹی صبح شام لنگر خانہ سے دی جانے لگی۔صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا کیونکہ وبائی بیماریاں زور پکڑ رہی تھیں۔نماز با جماعت اور دعاؤں پر زور دیا جانے لگا۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی زیر نگرانی قادیان سے آئی ہوئی بہت سی خواتین اور بچوں اور ان کے ساتھ لجنہ اماءاللہ لاہور کی خواتین نے بھی مہاجر خواتین اور بچوں کی خدمات سرانجام دیں۔قادیان میں بڑا حملہ ہونے پر ہزاروں کی تعداد میں عورتیں لاہور پہنچنے لگیں۔رتن باغ میں کیمپ لگائے گئے نیز جو دھامل بلڈنگ۔جسونت بلڈنگ اور سیمنٹ بلڈنگ میں بھی مہاجر خواتین کے ٹھہر نے کا انتظام کیا گیا۔لئے ہوئے قافلے نہایت کسمپرسی اور پریشانی کی حالت میں پہنچتے ان کی حالت نا قابل بیان تھی۔اکثر کے پاس جوتے ، کپڑے، برتن ، اور بُر فقے تک نہ ہوتے تھے۔ان سب کو کیمپوں میں ٹھہرایا گیا۔کھانا بہت سی کا رکنات اور خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مستورات کھلاتی تھیں اور رات بسر کرنے کے لئے صفوں کا انتظام کیا جا تا تھا۔بیماروں کو دوائیں دی جاتیں سینکڑوں رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کا پتہ کرنے ، ان کو لینے اور ان کو ملنے آئے ہوئے تھے ان کو تلاش کر کے ملانے اور کئی ایک کے جانے کے لئے کرایہ کا انتظام کیا جاتا بہت سے لوگ چلے گئے اور ایک کثیر تعداد بیمار بوڑھی عورتوں کی نا مساعد حالات کی وجہ سے یہیں رہ گئی۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی سرکردگی میں شب و روز انتہائی مصروفیت میں گزرتے۔بوڑھی عورتوں کو سنبھالنے کے علاوہ ایک بڑے کمرہ کو زچہ خانہ بنانا پڑا۔محترمہ امتہ الحمید صاحبہ مفتی لیڈی ڈاکٹر طقتي فرائض سرانجام دیتیں۔ایک ایک دن میں کئی کئی بچے پیدا ہوتے ان کو سنبھالنا، پر ہیزی دینا ، اکثر موقعوں پر دوائیں وغیرہ حضور اقدس سے لانی پڑتیں بچوں کے لئے کپڑوں وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتا۔ضروریات کی چیزیں۔برتن ، کپڑے ، جوتے ، بُر تھے ، بستر تقسیم کئے گئے۔لجنات نے کثیر تعداد میں چیزیں اکٹھی کر کے دیں۔دو ہزار کے قریب لحاف کمبل کھیں وغیر تقسیم کئے گئے۔مختلف مقامات پر مہاجرین کی امداد کیلئے بجنات کی قابل قدر مساعی ۱۹۴۷ء کے پر آشوب زمانہ میں جبکہ لاکھوں مہاجرین اپنے بچوں اور عورتوں سمیت کٹ لگا کر