تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 207
207 عورت سمجھتی ہے کہ اس کا دماغ ادنی ہے مگر میں اس کا قائل نہیں۔میں یہ مانتا ہوں کہ عورت کو ترقی کا موقع کم ملتا ہے مگر عورت کا دماغ مرد سے کم نہیں۔چنانچہ اس بات کا ثبوت کہ عورت کا دماغ ادنی نہیں ہر زمانہ میں ملتا رہا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں فرعون کی بیوی کا واقعہ اور حضرت مریم کی زیرتر بیت ایک بچہ کا نبی ہونا بتا تا ہے عورت مرد سے دماغی لحاظ سے کم نہیں۔پھر حضرت خدیجہ کی قربانیوں اور آپ کا دنیا کے سب سے زیادہ ذہین اور عقلمند انسان کے متعلق رائے قائم کرنا اور اس کے بعد جو قربانیاں آپ نے کیں وہ تاریخ کا ایک بے بہا جو ہر ہے۔پس عورت کی ذہنیت اور عادت کا فرق ہے، دماغ کا فرق نہیں۔پس اب یہ وقت ہے کہ تم اپنی عادت کو بدلو اور عورتوں میں تبلیغ کر کے وو خدمت اسلام میں حصہ لو اور جو مخالفت عورتوں کی وجہ سے مردوں میں پائی جاتی ہے وہ کم ہو۔“ پھر آپ نے فرمایا :۔مرد اگر جاہل بھی ہو تو وہ بے دریغ مسائل بیان کرنے لگے گا مگر عورت اگر پڑھی ہوئی بھی ہوگی تو وہ مسائل بیان کرنے میں جھجھک ظاہر کرے گی۔ہماری جماعت کی عورتوں میں دینی تعلیم بہ نسبت غیر احمدی عورتوں کے زیادہ ہے۔چنانچہ ہماری جماعت میں اس وقت دوعورتیں عربی کی ایم۔اے ہیں اور ایک لڑکی اس وقت پی۔ایچ۔ڈی کر رہی ہے۔دینی لحاظ سے وہ صفر ہیں لیکن ہماری عورتوں کی اکثریت قرآن کریم کا ترجمہ ، حدیث کا ترجمہ اور دیگر مسائل جانتی ہیں مگر غیر احمدیوں میں کوئی ایسی عورت نہیں جو دینی مسائل سے پوری طرح واقف ہو۔“ حضور نے فرمایا کہ:۔اس قدر تعلیم کے باوجود تم نے اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھا۔چنانچہ میں لجنہ اماءاللہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ایسا نصاب مقرر کرے جو پندرہ دنوں میں عورتوں کو سکھایا جائے اور پھر ان سے تقریریں کروائی جائیں اور اس طرح وہ تبلیغ کریں لیکن یہ بھی کم ہے۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ۱۹۵۱ء میں زنانہ کالج قائم کریں۔جگہ میں نے مقرر کر دی ہے۔اور ام متین ان کی نگران ہوں گی اور فرخندہ بیگم جو کہ بی۔اے۔بیٹی ہیں اور عنقریب وہ ایم۔اے کرلیں گی پر و فیسر ہوسکتی ہیں اور کچھ مرد پردہ میں پڑھائیں گے اور دینیات کی تعلیم کا بھی مکمل انتظام ہوگا تا کہ وہ و نیوی تعلیم کے ساتھ وہ دینی تعلیم سے بھی پوری طرح واقف ہو کر نکلیں۔کالج کے ساتھ بورڈنگ بھی ہوگا۔اس صورت میں