تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 206
206 اس بات کا خیال نہ رکھوں تو باقی تقریریں نہیں کر سکتا۔پس میں اس نیت سے آیا ہوں کہ چند باتیں آپ سے کروں۔اور اسی وجہ سے میں دیر سے آیا ہوں اگر وقت پر آتا تو مجھے زیادہ تقریر کرنی پڑتی اسلئے میں نے مناسب سمجھا کہ چند منٹ آپ کے سامنے بولوں۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔آج میں احمدی عورتوں کی توجہ اس امر کی طرف پھرانا چاہتا ہوں کہ ہر وقتے وہر سے۔ایک زمانہ تھا کہ احمدیت بہت ہی کمزور تھی صرف چند افراد احمدیت میں شامل تھے اور مسلمان خیال کرتے تھے کہ یہ ایک کھیل ہے اور ایک جُوں، مچھر اور پتو کی طرح ہے اس لئے وہ احمدیت کو اتنا حقیر سمجھتے تھے کہ اگر ایک مولوی اتنا لکھ دے کہ احمدی کا فر ہیں تو وہ فور مان لیں گے۔مگر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا یہ خیال کس طرح غلط ثابت ہوا اور وہ جماعت جو کہ سینکڑوں کی تعداد میں تھی ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں تبدیل ہو گئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی تو اس وقت کی جماعت کی تعداد آج کے مقابلہ میں بہت کم تھی لیکن اس وقت آپ نے خوش ہوکر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے اوراب ہماری وفات کا وقت آگیا ہے مگر اس وقت ہر ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں جماعتیں پائی جاتی ہیں۔قادیان کے آخری جلسہ سالانہ پر چالیس ہزار کی تعداد میں جماعت شامل تھی اور اب انڈونیشیا میں ، ایران میں، شام میں ، لبنان میں، مصر میں، سوڈان میں، ایسے سینیا میں، سیرالیون میں، نائیجریا میں ، انگلینڈ میں، جرمنی میں ، ہالینڈ میں، یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں، ماریشش، ملایا، بور نیو سیلون، بر ما اور اسی طرح کئی اور ممالک میں جو مجھے اس وقت یاد نہ ہوں بڑی تعداد میں احمدی ہوچکے ہیں اور اب مخالفوں نے یہ سمجھا ہے کہ پوری طاقت سے ان کو دبایا جائے۔چنانچہ رعایا اور حکومت مخالفت میں سرگرم ہے۔پس جس طرح مخالف پوری طاقت سے مخالفت کر رہے ہیں ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ پوری سرگرمی سے تبلیغ میں لگ جائیں۔لیکن اس امر میں سب سے بڑی روک عورتیں ہیں۔کوئٹہ میں تقریر کے وقت بعض افسر بھی شامل تھے جب وہ گھروں میں واپس گئے تو ان کی بیویوں کو پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ اگر احمدیوں سے ملنا ہے تو ہمیں میکے بھیج دیا جائے چونکہ ان کا 66 ایمان پختہ نہ تھا اس لئے وہ ڈر گئے۔“ پھر حضور نے فرمایا کہ