تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 191 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 191

191 اگر تمہارے مرد تمہاری بات نہیں مانتے اور وہ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے اور تمہیں بھی دین کا کام نہیں کرنے دیتے تو تم ان کو چھوڑ دو اور انہیں بتا دو کہ تمہارا ان سے اسی وقت تعلق رہ سکتا ہے جب تک وہ دین کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں۔اور یہ الفاظ کہتے کہتے میری آنکھ کھل گئی۔لجنہ اماءاللہ کو سٹہ سے حضرت مصلح موعود کا خطاب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس سال بھی کو ئٹہ تشریف لے گئے وہاں حضور نے مورخہ ۳۱۔جولائی ۱۹۵۰ء کو لجنہ اماءاللہ کوئٹہ سے ایک اہم خطاب فرمایا جس میں حضور نے فرمایا:۔۔۔۔۔۔ابتدائے آفرنیش سے عورت اور مرد کی آپس میں مشارکت پائی جاتی ہے اور ان دونوں پر بعض ذمہ داریاں عائد ہیں جن پر مذہبی کتب ہمیشہ سے بحث کرتی چلی آئی ہیں۔احکام اور انعامات میں بھی دونوں کا ذکر اکٹھا کیا گیا ہے۔ابتدائی زمانہ میں عورتیں خدمت دین کرتی تھیں اور ان میں خدمت کا احساس پایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ جہاد میں بھی شریک ہوا کرتی تھیں۔وہ جنگی فنون سے واقف تھیں۔وہ رسول کریم صلی علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ سے فائدہ اُٹھانا چاہتی تھیں۔وہ اپنے قومی کاموں میں اپنے جذبات کی کوئی پروا نہیں کرتی تھیں۔وہ قومی ذمہ داریوں کے سامنے اپنے ذاتی مفاد کو نظر انداز کر دیتی تھیں۔لیکن اس زمانہ میں یہ چیز نا پید ہے۔“ حضور نے مزید فرمایا کہ:۔مسلمانوں پر جو تباہی آئی ہے اس کا بڑا سبب یہ ہے انہوں نے قرآن کریم سے اپنی توجہ ہٹالی اور دُنیا میں منہمک ہو گئے۔اس کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم آتا ہو۔اگر قرآن کریم کے ہمیں معنی نہیں آتے یا معنی تو آتے ہیں مگر ہم اسے پڑھتے نہیں تو اس کا فائدہ کیا۔ان پڑھ ہونے کا عذر کوئی چیز نہیں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی عزیز کی کوئی چٹھی آتی ہے تو ان پڑھ عورتیں جب تک اُسے آٹھ دس افراد سے پڑھا کر سُن نہیں لیتیں آرام نہیں کرتیں۔اسی طرح قرآن کریم ہمارے خدا کا ایک خط ہے جو ہمارے نام آیا۔تو ان پڑھ ہونا کوئی عذر نہیں رکھتا۔ہمیں اس خط کو بار بار پڑھوا کر سُننا له الفضل ۲۰۔جون ۱۹۵۰ء ص ۲