تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 190
190 حضور نے جس رؤیا کا ذکر فرمایا وہ مندرجہ ذیل ہے:۔چند دن ہوئے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرد ہے جو اپنے پاؤں سے کسی چیز کو مسل رہا ہے مگر خواب میں میں اس کو ایک مرد نہیں سمجھتا بلکہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تمام مر دوں کا نمائندہ یا ان کا قائمقام ہے۔اس مرد پر ایک چادر پڑی ہوئی ہے اور وہ اپنے پیروں کو زمین پر اس طرح مار رہا ہے جیسے کسی چیز کو مسلنے کے لئے بار بار پیر مارے جاتے ہیں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اس کے پیر ہیں وہاں کیچڑ میں دُنیا بھر کی عورتیں مچھلیوں کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں اور وہ ان کو اپنے پیروں سے مسلنا چاہتا ہے۔یہ دیکھ کر میرے دل میں عورتوں کی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا اور میں اس کے سینہ پر چڑھ گیا اور پھر میں نے اپنی لاتیں لمبی کیں اور جہاں اس کے پاؤں ہیں وہاں میں نے بھی اپنے پاؤں پہنچا دیئے۔مگر وہ تو ان عورتوں کو مسلنے کے لئے پیر مار رہا ہے اور میں اس کے پاؤں کی حرکت کو روکنے اور ان عورتوں کو ابھارنے کے لئے اپنے پاؤں لمبے کر رہا ہوں۔اسی دوران میں ان عورتوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں۔”اے عور تو تمہارے لئے آزادی کا وقت آگیا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے ذریعہ تمہاری ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں اگر اس وقت بھی تم نہیں اُٹھو گی تو کب اُٹھو گی۔اور اگر اس وقت بھی تم اپنے مقام اور درجہ کے حصول کے لئے جد و جہد نہیں کرو گی تو کب کرو گی۔“ میں نے دیکھا کہ جوں جوں میں نے ان کو ابھارنے کے لئے اپنے پیر ہلانے شروع کئے نیچے سے وہ مچھلیاں جن کو میں عورتیں سمجھتا ہوں ابھرنی شروع ہوئیں اور وہ اتنی نمایاں ہو گئیں کہ میرے پیروں میں ان کی وجہ سے بھیجی شروع ہوگئی اور اس آدمی کے پیر آپ ہی آپ کھلنے شروع ہو گئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ بالکل کھل گئے۔پھر میں نے اپنے مضمون کو بدل دیا اور عورتوں کے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے کہا۔یہ وقت اسلام اور احمدیت کی خدمت کرنے کا وقت ہے اگر اس وقت مرد اور عورت مل کر کام نہیں کریں گے اور اسلام کے غلبہ کی کوشش نہیں کریں گے تو اسلام دُنیا میں غالب نہیں آسکے گا۔تم کو چاہیئے کہ تم اپنے مقام کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے دین کی جتنی خدمت بھی کر سکو اتنی خدمت کرو پھر میں اور زیادہ زور سے ان سے کہتا ہوں۔